خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 798 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 798

خطبات طاہر جلدے 798 خطبه جمعه ۲۵ /نومبر ۱۹۸۸ء گئے یعنی طبقات بدل رہے ہیں اور نچلے طبقے کے احمدی اوپر کے طبقے کے احمدیوں میں داخل ہورہے ہیں اور یہ ایک عام عالمی مضمون ہے جس کا کسی ایک ملک سے تعلق نہیں۔تمام ملکوں میں یہی کیفیت ہے۔نئی نسلوں کے اندر خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کا ایک نیا شعور پیدا ہو رہا ہے اس سے وابستگی میں وہ پہلے سے زیادہ ترقی کر رہے ہیں۔تو یہ حالات تو سب دنیا کر نظر آرہے ہیں یعنی دیکھنے والی دنیا کو لیکن دیکھنے والی دنیا میں سے صرف دو قسم کے لوگ ہیں: کچھ دماغ کے بصیرت رکھنے والے بعض دماغ کے اندھے بیچارے۔جو دماغ کے اندھے ہیں وہ دیکھتے ہیں اور طیش کھاتے ہیں، ان کو غصہ آجاتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ ان کی اچھی حالت کو کسی طرح بری حالت میں تبدیل کیا جائے۔اس سے زیادہ ان کو کو کچھ سمجھ نہیں آتی۔تو یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ اے خدا! ان دماغ کے اندھوں کو بصیرت تو عطا کر۔اس کے بغیر جو چیز ہم دیکھ رہے ہیں یہ بھی دیکھیں گے لیکن ان کو سمجھ نہیں آئے گی۔وَمَا يُشْعرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ (الانعام: ۱۱۰) قرآن کریم فرماتا ہے اے سوال کرنے والو ! جو نشان مانگ رہے ہو تمہیں کس طرح سمجھایا جائے کہ جب خدا کے نشان ظاہر ہوں گے تو تم نہیں ایمان لاؤ گے تمہیں نہیں سمجھ آئے گی کہ کیا ہو گیا ہے۔پس جب تک بیماری کے دور کرنے کی دعانہ مانگی جائے محض نشان طلب کرنا کافی نہیں ہے تو اس دعا میں ترقی کریں اور کثرت سے یہ دعائیں کریں تا کہ اللہ تعالیٰ اس کو محض ایک تماشا کی کھیل نہ بنادے بلکہ واقعہ کثرت کے ساتھ جماعت احمدیہ کو اس مباہلے کے نتیجہ میں فوائد عطا ہوں۔پاکستان میں جو حالات ظاہر ہورہے ہیں ان میں ابھی دعا کی بہت ضرورت ہے لیکن ایک بات تو قطعی طور پر روشن ہو چکی ہے کہ بڑے بڑے جگادری مولوی جو جماعت کی تکذیب میں اور مباہلے کی تضحیک میں پیش پیش تھے ان کے سیاسی لحاظ سے سر کاٹے گئے ہیں اور بری طرح مختلف میدانوں میں پچھاڑ کھا کھا کے گرے ہیں اور ایسی عام تذلیل ہوئی ہے کہ بعض اخباروں نے لکھا ہے کہ یہ تو لگتا ہے کوئی معجزہ ہوا ہے، کوئی حیرت انگیز بات ہے، نارمل بات نہیں ہے اور شکست کھانے والے خود کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں سمجھ آ رہی کہ یہ کیا ہوا ہے، توقعات کے خلاف بات ہو رہی ہے۔بعض صاحبوں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مدمقابل کے حق میں