خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 793
خطبات طاہر جلدے 793 خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء بھی ذکر کرتے ہیں۔دوسرا یہ کہ کیا وہ سارے جن کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ انہوں نے مباہلہ کا چیلنج قبول کر لیا ہے ایک سال کے اندر اندر لاز ما مر جائیں گے اور کسی ناگہانی موت یا ایسی بلا میں گرفتار ہو کر دنیا سے رخصت ہوں گے کہ واضح طور پر ان کی موت عبرت کا نشان بنے یا اور بھی کچھ ایسی صورتیں ہو سکتی ہیں جن کے نتیجے میں ان کا جھوٹا ہونا زائد ثابت ہو جائے۔یہ جو دو بڑے سوال ہیں پہلے میں ان کے اوپر کچھ روشنی ڈالتا ہوں۔میں نے جہاں تک مطالعہ کیا ہے ان اخبارات کی سرخیوں کا بھی اور تفاصیل کا بھی جوان سرخیوں کے نیچے لگائی گئی ہیں۔اکثر اور بھاری اکثریت، اکثر سے مراد ایسے لوگ ہیں جو بھاری اکثریت میں ہیں ، وہ لازماً او پر کچھ اور اعلان کرتے ہیں اور اندر جو تحریر ہے اعلان کے نیچے اس میں ہمیشہ راہ فرار اختیار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ فلاں تاریخ تک فلاں جگہ پہنچ جائیں ورنہ ہم سمجھیں گے کہ آپ نے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کر لیا ہے یاور نہ ہم آپ کے جھوٹے ہونے کا جشن منائیں گے۔ورنہ ہم اعلان کریں گے کہ وہ بھاگ گیا اور مرزائیت اور قادیانیت جھوٹی ثابت ہوگئی وغیرہ وغیرہ۔ان لوگوں کے متعلق جیسا کے ظاہر ہے مضمون سے ایک بات بہر حال یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ سنجیدہ نہیں ہیں۔نہ صرف یہ کہ جھوٹے ہیں بلکہ سنجیدہ نہیں ہیں اور ان کو پتا ہی نہیں کہ ہم کر کیا رہے ہیں اور کہہ کیا ر ہے ہیں۔بعض ان میں سے ایسے ہیں جنہوں نے یہ لکھا ہے کہ اس دن ہم ڈھول ڈھمکے کے ساتھ اتنے آدمی اکٹھے کریں گے اور پھر خوب جشن منائیں گے اور جلوس نکالیں گے کہ مرزائیت جھوٹی نکلی۔چنانچہ ہندوستان کی بعض خبروں سے پتا چلتا ہے کہ واقعہ وہاں ایسا بعض علاقوں میں کیا بھی گیا ہے اور اعلان ہو گیا ہے کہ ہم جیت گئے مباہلہ۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کے دماغ میں مباہلہ اور دنگل یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔یہ سمجھتے ہیں جس طرح دنگل اور میلوں میں مقابلے ہوتے ہیں دو پہلوان لڑتے ہیں اس طرح کی بات ہے۔ہمارے پہلوان میدان میں نکل آئے ان کے نہیں آئے اس لئے ان کی شکست کا اعلان ہو۔ان کو کوئی تصور نہیں ہے کہ مباہلہ حقیقت میں ہے کیا ؟ ایک تو یہ نتیجہ نکلتا ہے لیکن جب آپ مزید غور کریں تو پھر یہ نتیجہ بھی درست دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ان میں سے اکثر وہ ہیں جو علمائے دین کہلاتے ہیں اور علمائے دین ہونے کی حیثیت سے یہ سوچا نہیں جاسکتا کہ ان