خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 790
خطبات طاہر جلدے 790 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء لگ جاتے ہیں، اس کو پہچاننے لگ جاتے ہیں اور اس سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح مجزوم سے بھاگنے کا حکم ہے۔پس فَفِر وا الی اللہ کا یہ مطلب ہے۔اللہ کی طرف دوڑو اور یہ دوڑ شعور کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی آپ کو۔اس دوڑ کی تحریک نہیں پیدا ہو گی دل میں جب تک آپ گناہ کا شعور حاصل نہیں کریں گے۔یہ وہ مستقل چیزیں ہیں جن کے بغیر ہماری سوسائٹی لمبے عرصے تک سنبھالی نہیں جا سکتی۔جو وقتی اقدامات ہیں وہ میں نے بیان کئے ، جو سطحی اقدامات ہیں وہ بھی بیان کئے۔یہ بھی بتایا کہ بعض دفعہ جراحی کی بھی ضرورت پیش آئے گی۔بعض ایسے بھی لوگ ہوں گے جن کو آپ مجزوم سمجھ کر ان کی سوسائٹی میں جانا چھوڑ دیں لیکن یہ نسبتا سطحی باتیں ہیں۔اصل بنیادی اور گہری بات یہی ہے کہ گناہ کے شعور سے ایک روحانی فراست نصیب ہوتی ہے۔دونوں طرف معرفت کی ضرورت ہے۔ایک معرفت دوسرے کی معرفت کو بڑھاتی ہے۔اس لئے گناہ کا شعور حاصل کریں تو آپ فَفِرُّوا اِلَی الله کی حالت میں داخل ہو جائیں گے۔خود بخود یہ شعور آپ کو دوڑائے گا اپنے خدا کی طرف اور کہیں اور پناہ نہیں ملے گی۔یہی ہے بنیادی مفہوم تقویٰ کا جس کو سمجھے بغیر انسان کی سچی اصلاح ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت کو بالعموم ساری دنیا میں توفیق بخشے کہ جس عظیم اور نازک اور تاریخی اور نہایت اہم دور سے ہم گزر رہے ہیں اس کے تقاضے پورے کریں خدا کی عطا کردہ توفیق کے ساتھ اور گناہوں کو چھوڑیں لذت کے ساتھ تکلیف اور مصیبت کے ساتھ نہیں بلکہ پورے کامل اطمینان کے ساتھ کہ ہاں اب ہم امن میں آگئے ہیں اور یہ امن خدا کی گود کے سوا اور کہیں نصیب نہیں ہوسکتا۔