خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 788 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 788

خطبات طاہر جلدے 788 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۸ء ہاتھ اس طرف بڑھاتا ہے لیکن اس کو یہ نہیں پتا کہ اس کے اندر کیا بدی پوشیدہ ہے، اس سے اس کو کیا نقصان پہنچے گا۔ اب ایسا بچہ اگر رکتا ہے تو ماں باپ کی نصیحت کی وجہ سے رکتا ہے اور بسا اوقات اس وقت تک رکھتا ہے جس وقت تک ماں باپ اس کو دیکھتے رہتے ہیں۔ جب اس کا یہ شعور کہ ماں باپ مجھے دیکھ رہے ہیں اس کا ساتھ چھوڑ دے اور وہ واقعہ یا اپنے خیال میں یہ سمجھ رہا ہو کہ میں ماں باپ کی نظر سے الگ ہو گیا ہوں تو کوئی بعید نہیں کہ وہ اسی سانپ کے منہ میں پھر ہاتھ مار دے۔ انسان کی بھی یہی کیفیت ہے ۔ ہر لمحہ، ہر وقت ، خدا کو حاضر سمجھنا یہ بہت مشکل کام ہے اور بہت لمبے تجربے اور دعا کے نتیجے میں یہ وقفہ بڑھتا چلا جاتا ہے زندگی کے ساتھ ساتھ کہ انسان کو خدا کے حاضر ناظر ہونے کا احساس رہے اور اس منزل سے پہلے اتنے مراحل ہیں کہ بعض انسانوں کی زندگی میں بعض دفعہ سالوں میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جس میں ان کو خدا کے وجود کا شعور پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ بھول جاتے ہیں۔ بعضوں کی زندگی میں یہ مہینوں میں آتا ہے، بعضوں کی زندگی میں ہفتوں میں آتا ہے، بعضوں کی زندگی میں روز ایسے لمحے آنے لگتے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے کیا ایسا لمحہ تمہارے دل پر نہیں آیا کہ خدا کے خوف ، خدا کی خشیت سے تمہارے دل پارہ پارہ ہو جائیں اور کا پینے لگ جائیں۔ یہ وہ لمحات ہیں جو گناہوں سے بچاتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے شعور کے بڑھنے ، اس کے پھیلنے ، اس کی وسعت کے ساتھ ساتھ یہ گناہ سے بچنے کا مزاج بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تو اصل حقیقت یہی ہے کہ گناہ کے متعلق شعور پیدا کریں کہ یہ چیز خطر ناک ہے اور بری ہے اور نقصان دہ ہے۔ بعض دفعہ یہ شعور اپنے تعلق سے پیدا نہیں ہوتا دوسرے کے تعلق سے پیدا ہو جاتا ہے۔ اب نہایت گندے معاشرے میں جہاں ایک دوسرے کو بری نظر سے دیکھنا کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی وہاں بعض موقع پر لوگ ایک دوسروں کو ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں ۔ اس نسبت سے وہ لمحے ہیں ان کے لئے شعور کے۔ وہ جب دوسرے کی ماں بہنوں سے وہ سلوک کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے دل میں کوئی چٹکی نہیں لی جاتی، کوئی تکلیف کا احساس پیدا نہیں ہوتا لیکن جب ایک مشتعل آدمی ان کو ان کے ماں بہن کے تعلق سے وہ باتیں کہتا ہے جو وہ دوسرے کی ماں بہنوں کے تعلق سے بالکل معمولی سمجھ رہے ہوتے ہیں تو دل میں ایک شدید درد پیدا ہوتی ہے، چٹکی لی جاتی ہے، کانٹے چھتے ہیں اور بعض دفعہ مجرم ہونے کے باوجود اتنا مشتعل ہو جاتا ہے کہ ایسی باتیں کرنے والے کو قتل بھی کر دیتا