خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 783 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 783

خطبات طاہر جلدے 783 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء جذبے الگ الگ ہیں اور اگر انسان باشعور طور پر اپنے نفس کا تجزیہ کرے تو فوراً پہچان سکتا ہے کہ اصل محرک کیا تھا اور حقیقت میں یہ وہ تنقید ہے جو قرآن کریم کے اولی الالباب کیا کرتے ہیں یا وہ دوسری تنقید ہے جو دنیا کے تخریب کا ر کیا کرتے ہیں۔اس ضمن میں بہت سے اور بھی ایسے مابہ الامتیاز ہیں، فرق کرنے والے معاملات جو ایک نفس اپنے نفس پر تنقید کرنے والا اس تنقید کے دوران سیکھ سکتا ہے،معلوم کر سکتا ہے اور اس لمبی بحث میں اس وقت نہیں پڑنا چاہتا لیکن اگر دیانتداری سے کوئی اپنی تنقید کا تجزیہ پہلے کر لیا کرے اور اس پر خوب غور کر لیا کرے تو کئی قسم کی ہلاکتوں سے بچ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے تنقید کرنے والوں کی بیماری کے متعلق یہ فرمایا کہ جب یہ بہت بڑھ جاتی ہے اور عادت مستمرہ بن جاتی ہے جو ان کے ساتھ ہمیشہ کے لئے جڑ جاتی ہے۔تو اس بیماری کو پھر روحانی اصلاح میں جذام کہا جاتا ہے یعنی کوڑھ کی بیماری اور اس کی پہچان آپ نے یہی بیان فرمائی کھلی کھلی کہ پھر گہری تنقید کا جائزہ لینے کا بھی سوال نہیں۔یہ بات خوب کھل کے سامنے آجاتی ہے کہ ایسے شخص دوسرے کی تکلیف سے پھر لذت اٹھانے لگ جاتے ہیں۔غلطیوں کی بحث نہیں رہتی۔کوئی بھی کسی پر مصیبت پڑے تو لطف اٹھاتے ہیں اور ایسی باتیں چاشنی کے ساتھ مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں اور کسی کو فائدہ پہنچ جائے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے۔یہ بیماری جذام ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا: فر من المجذوم فرارك من الاسد (مسند احمد ، حدیث نمبر: ۹۳۴۵) کہ مجزوم سے اس طرح دوڑ و جس طرح شیر سے ڈر بھاگتے ہو۔اس پر بہت سے علماء نے بخشیں اٹھا ئیں ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امی ہے جو اتنے شفیق تھے، جو بیماروں کی تیمارداری خود بھی ہمیشہ کیا کرتے تھے اور اسی کی نصیحت فرماتے تھے۔یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ کوئی تکلیف میں مبتلا ہو اور آپ اس تک پہنچیں نہ اگر پہنچ سکتے ہوں یا اپنے غلاموں کو یہ نصیحت نہ کریں کے ان کے گھر تک پہنچو، ان کی عیادت کرو اور عیادت کے مضمون کو آپ نے اس کثرت سے بیان فرمایا ، اتنا اٹھایا ہے کہ اہم نیکیوں میں اس کو شامل فرما دیا اور دوسری طرف یہ ارشاد کے فـــر مــن المجزوم فرارك من الاسد مجزوم سے اس طرح دوڑ و جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔بعض علماء نے یہ ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد روحانی بیماری ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے