خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 782 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 782

خطبات طاہر جلدے 782 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۸ء دانشوری جو نتیجے کے لحاظ سے کسی کے دامن کو بھرنے کی بجائے اس کے دامن میں جو کچھ ہے وہ بھی چھین کر لے جائے اس کو آپ چالا کی تو کہہ سکتے ہیں اس کو دانشوری نہیں کہہ سکتے۔سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو کیا کرنا چاہئے کیونکہ میں تو تنقید کی نظر سے تنقید کرہی نہیں رہا۔مجھے تو وہ بھی پیارے ہیں جو ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور جماعت میں شامل ہیں اور ان معنوں میں پیارے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے ، وقت کی آواز پر انہوں نے لبیک کہا، قربانیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔اس لئے میں نہیں چاہتا کہ انہیں دکھ پہنچے اور وہ اور ان کی اولا د میں ضائع ہوں۔تو ایک صرف تنقید مقصود نہیں بلکہ ان کو بچانا مقصود ہے۔اس کے لئے کیا طریق ان کو اختیار کرنا چاہئے۔آج میں دو باتیں ان کے سامنے رکھتا ہوں۔اول یہ کہ ہر تنقید کا جائزہ لیا کریں اور زبان پر بات لانے سے پہلے اپنے دل کو ٹولا کریں کہ یہ تنقید پیدا کیوں ہوئی تھی۔کیا خدا اور اس کی محبت اور اس کے رسول کی محبت کے نتیجے میں یا بنی نوع انسان سے شفقت کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی یا تنقید سے ہم نے کوئی انتقامی جذ بہ ٹھنڈا کیا ہے اور تنقید کرتے ہوئے منفی لذت حاصل کرتے ہیں۔یہ جو نفس کا تجزیہ ہے یہ بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ دانشوری کا مادہ تو ان میں بہر حال موجود ہے خواہ اس کا رخ غلط ہو جائے بعد میں۔اس لئے ایسے لوگ جو دوسروں پر تنقید کر سکتے ہیں وہ اپنے اوپر بھی تنقید کی اہلیت رکھتے ہیں۔بسا اوقات سوچتے نہیں ہیں اس لئے وہ نہیں کرتے۔اس لئے وہ تنقید کریں اور اس تنقید کے دوران بعض طریق ایسے ہیں جن سے ان کو جلد ہی اپنی بات کی سمجھ آسکتی ہے۔مثلاً تنقید کرتے وقت ان کو لذت محسوس ہوتی ہے یا دکھ محسوس ہوتا ہے۔یہ دو باتیں ایسی ہیں جو بالکل کھلا کھلا فرق کر دیتی ہیں۔پھر یہ کہ جس شخص سے کوئی غلطی ہوئی ہے کیا اس کی غلطی کے اوپر ان کو لطف نہیں آیا تھا کہ ہاں ! اب میرے یہ قابو آیا۔انہوں نے محسوس نہیں کیا تھا کہ ہاں اب میں پکڑوں گا اس کو اب کس طرح مجھ سے بچ سکتا ہے ،اب جب میں اس کی شکایت کروں گا تو جس کے پاس شکایت کروں گا وہ کس طرح اب اس کی طرف داری کر سکتا ہے اس موقع پر میں نے اس کو پکڑ لیا۔یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے یا استغفار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور انسان سوچتا ہے کہ اس سے غلطی ہو گئی ، اس سے جماعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔میں اسے سمجھاؤں ، میرا بھائی ہے اور بہت سی نیکیاں ہیں لیکن نادانی میں اس نے یہ غلطی کر دی۔اب یہ دونوں