خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 778 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 778

خطبات طاہر جلدے 778 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء جماعت کو دعائیں جاری رکھنی چاہئے اور ساری جماعت کو ان دعاؤں میں شامل ہونا چاہیئے۔اس سلسلہ میں ایک بہت اہم نقطہ میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں اجتماعی دعاؤں کی دوطرح سے برکتیں ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ اجتماعی دعا انسان کو شرک سے پاک کرتی ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کس کی دعا لگی تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو بعض دفعہ ایک اچھی دوا کے ساتھ جس کے متعلق اعتماد ہوا کرتا تھا کہ یہ دوا کسی خاص بیماری میں مفید ہے اور دوائیں بھی شامل فرما لیا کرتے تھے اور اس نیت سے شامل فرمایا کرتے تھے کہ میرا کہیں زیادہ انحصار اس دوا پر نہ ہو جائے اور نہ کہ سکوں کے خدا کی پیدا کردہ چیزوں میں سے کس نے مجھے زیادہ شفا بخشی تھی اور توجہ اسی طرف مبذول رہے کہ خدا نے شفا بخشی تھی بعض چیزوں میں اور ان چیزوں سے میں نے فائدہ اٹھایا۔اس لئے اجتماعی دعا میں بھی ایک گہرا فلسفہ ہے اور وہ تو حید کا فلسفہ ہے۔جب ساری جماعت دعا کرتی ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کس کی دعا مقبول ہوئی۔بحیثیت مجموعی سب جماعت خدا کے حضور عجز کرتی ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اجتماعی دعا مجموعی شکل میں ایک اثر دکھاتی ہے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اجتماع میں شریک کثرت سے لوگوں کے دلوں پر مختلف واردات مختلف وقتوں میں طاری ہوتی ہیں، ان کے دلوں پر واردات پیدا ہوتی ہیں اور وہ خاص کیفیات دعا کی مقبولیت کے لئے ایک مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔اس لئے بہت بڑی تعداد میں جب جماعت دعا کر رہی ہوتی ہے تو جس طرح جگنو چمکتے ہیں اندھیرے میں بیشمار جگنو ہیں ان میں کچھ بجھ بھی گئے ہوتے ہیں کچھ جل بھی رہے ہوتے ہیں لیکن مجموعی تاثر یہی ہوتا ہے کہ رات روشن ہوگئی ہے۔مشرقی بنگال میں ایک دفعہ یہ سندر بن کے علاقے میں میں نے یہ نظارہ دیکھا۔سارا جنگل کا جنگل روشن ہوا ہوا تھا اور جگنوؤں کی وجہ سے روشن ہوا ہوا تھا لیکن باوجود اس کے کہ تقریباً نصف جگنو ایک وقت میں بجھے ہوئے ہوتے تھے لیکن کچھ دوسرے جگنو چونکہ روشن ہوتے تھے اس لئے ایک لمحہ بھی ایسا نظر نہیں آتا تھا جبکہ تاریکی ہو تو اجتماعی دعا کی برکت سے خدا کے بعض بندوں کے دلوں میں مختلف تحریک مختلف وقتوں میں پیدا ہو رہی ہوتی ہے اور ان کو قبولیت کے لمحے عطا ہوئے ہوتے ہیں۔اس لئے اس سارے عرصے میں کوئی ایک لمحہ بھی مومن کی اجتماعی زندگی پر ایسا نہیں آتا جس میں روشنی نہ ہو۔اس لئے ضروری ہے کہ کثرت کے ساتھ تمام دنیا کے احمدی مسلسل دعاؤں میں مصروف رہیں۔