خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 773
خطبات طاہر جلدے 773 خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۸۸ء لے آخر بچوں کا بھی حق ہے۔قرآن کریم نے اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات میں کھول کھول کر اس حق کو بیان فرمایا ہے۔یہاں تک کہ یہ بھی فرمایا کہ بعض چندہ دینے والے تھے ان کا چندہ واپس کر دیا ، ان کو روک دیا کہ اتنی قربانی نہیں کرنی۔و لنفسک علیک حق و لاهلک علیک حق (مسند احمد حدیث نمبر :۶۵۸۳) تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے، تیرے اہل کا بھی تجھ پر حق ہے۔کیسا متوازن اور حسین اخلاق کا مظاہرہ ہے اور کیسی متوازن اور حسین اخلاق کی تعلیم ہے۔اس کے مطابق اگر کسی نے اپنی سہولتوں میں اپنے بچوں کو کبھی شامل کر لیا۔کبھی لاہور دورے پر گیا ہے تو بچوں کو بھی ساتھ لے گیا۔واقفین کے بچے آخر قید ہونے کے لئے تو نہیں بنائے گئے اور کبھی ان کو شالا مار کی سیر کرا دی تو آگ لگنے کی کیا ضرورت ہے۔اس قدر کونسا گناہ عظیم اس سے مرتکب ہو گیا ہے کہ اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناؤ لیکن ایسے لوگوں پر جو طعن و تشنیع کے محل پر کھڑے رہتے ہیں بیچارے ان کو طوعی طور پر قربانی کی خاطر بعض بیماروں کو بچانے کے لئے اپنے معاملات میں احتیاط کرنی چاہئے اور جس حد تک ممکن ہے وہ احتیاط کرنی چاہئے اور کوئی اس سے بڑی قیامت نہیں آجائے گی۔یہ نہیں میں کہتا کہ پوری طرح اپنے خاندانوں کو محروم کر دیں مگر مثلاً اگر آپ اپنے بیٹوں کو کاریں دیں کہ وہ دندناتے پھر میں بازاروں اور گلیوں میں اور اس کا غلط استعمال کریں اور اپنے ساتھ دوستوں کو لے کر پھریں تو یہ یقیناً حد سے بڑھنے والی بات ہے۔یہاں آپ کا عمل واقعہ سرزنش کے لائق بن جاتا ہے۔پھر اسے عادت بنالیں ساتھ دو قدم پر بازار ہے کہ جب بھی نکلنا ہے موٹر میں قدم رکھنا ہے اور موٹر سے قدم نکال کر دکان تک پہنچنا ہے یہ تو اچھی عادت نہیں ہے۔مجھے خدا تعالیٰ نے ربوہ میں ایک ذاتی کار کی توفیق دی بھی ہوئی تھی تو مجھے تو سخت گھبراہٹ ہوتی تھی کہ ہر قدم پر اٹھ کے کار میں داخل ہوں اور کار کے ذریعے دوسری جگہ پہنچوں۔مجھے بڑی سختی سے گھبراہٹ اور قید کا احساس ہوتا تھا۔یا پیدل یا سائیکل پر جو لطف اس کا ہے عام نزدیک کے فاصلے طے کرنے کا وہ کار کا تو نہیں کار تو ایک مصیبت ہے ایسے موقع پر۔تو آپ اپنے سائیکل استعمال کریں اپنے پاؤں استعمال کریں، چہل قدمی کریں صحت بھی اچھی ہو گی لطف آئے گا اور بعض لوگ جو بیچارے خواہ مخواہ تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو تکلیف نہیں ہوگی۔وہ جعفری نے ایک دفعہ ایک مشاعرے میں ایک نظم کہی تھی مزاحیہ کلام تھا تو اس مزاحیہ کلام پر اس کو تمغہ ملا۔لیکن اس کو غالباً معلوم ہو گیا تھا کہ ایسانیا انداز ہے کہ تمغہ مل جانا ہے تو اس تمغے کے خلاف بھی اس نے ایک بات کر دی۔اس نے یہ تلا کر یہ نظم کہی