خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 767 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 767

خطبات طاہر جلدے 767 خطبہ جمعدار نومبر ۱۹۸۸ء کے ہم آہنگ کر دے۔ہم بھی اس کائنات کے مقصد کو حاصل کرنے والے ہوں اور باطل سے دور ر ہیں اور حق کو پانے والے ہوں اور ضائع نہ جائیں۔اگر ایسا نہ ہوا تو پھر وہ عرض کرتے ہیں عذاب النار ہمارا مقدر ہو جائے گا فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔تو یہ جو دانشور ہیں ان کی تمام علامتوں پر اگر غور کیا جائے تو بڑے عظیم وسیع مضمون ان میں پوشیدہ ہیں لیکن آخری بات جس سے یہ خاص طور پر پہچانے جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان کے تعلق رکھنے والے آگ کے عذاب سے بچائے جاتے ہیں۔ان کے تعلق رکھنے والوں کو نہ اندرونی جہنم نصیب ہوتی ہے نہ بیرونی جہنم کیونکہ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کی دعا جو ہے اس میں درحقیقت یہ مضمون کھول دیا یہ آگ سے بچنے کی ہر کوشش کر لیتے ہیں۔ان کا رہن سہن ، ان کی زندگی ، ان کا سوچنے کا طریق ، ان کے ملنے جلنے کے آداب یہ سارے ایسے ہیں جو آگ سے دور رکھنے والے ہیں ان کو اور بے چینیوں سے بچانے والے ہیں۔ایک آگ تو جہنم کی آگ ہے جس کا مابعد الموت تعلق ہے۔ایک وہ آگ ہے جس کا اس دنیا سے تعلق ہے۔اس دنیا میں جس شخص کو خدا آگ سے بچائے اس کا دل پرسکون رہتا ہے۔طمانیت پاتا ہے اور ایسی باتوں سے وہ بچایا جاتا ہے جو اس کے دل میں ایک قسم کی جہنم کی آگ لگا دیں۔پس اس مضمون میں یہ بات ظاہر ہوگئی کہ یہ دانشور کسی اندرونی آگ میں پھکتے نہیں ہیں، کسی جلن کا شکار نہیں رہتے۔یہ آگ سے یعنی ہر قسم کی آگ سے جو خدا کے عذاب کا مظہر ہو خود بھی دور بھاگتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے رہتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں اس آگ کے عذاب سے بچا لیکن اس کے سوا کچھ اور دانشور بھی ہیں جو آگ سے پیدا ہوتے ہیں۔حسد کے نتیجے میں ان کا وجود ابھرتا ہے۔جلن اور غصے اور انتقام کی وجہ سے ان کی دانشوری کی قوتیں اجاگر ہوتی ہیں اور ان کے اڈے آگ سے بچانے کے لئے نہیں بلکہ آگ میں مبتلا کرنے کا نتیجے پیدا کرتے ہیں۔چنانچہ دو ہی قسم کے دانشور ہیں۔جو دوسرے دانشور ہیں ان سے شر پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ فرمایا وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (الفلق : ٦) خدا کے مومن بندے یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ ہمیں حاسد کے شر سے بچا جب وہ حسد کرے۔پس آپ دیکھیں کے دنیا کہ اکثر دانشور جو مذہبی بنیادیں نہیں رکھتے یا جن کی جڑیں خدا تعالیٰ کی صفات میں پیوستہ نہیں ہیں بلکہ غیر اللہ کی صفات سے وہ جنم لیتے ہیں، وہیں سے پیدا ہوتے ہیں۔ان کے اور ان مومن مفکرین کے درمیان یہ بنیادی فرق ہے۔وہ لوگ ہمیشہ