خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 766 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 766

خطبات طاہر جلدے 766 خطبه جمعه ۱۱ نومبر ۱۹۸۸ء إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران : ۱۹۱ ۱۹۲) کہ یقیناً زمین و آسمان کی پیدائش میں اور دن اور رات کے ادلئے بدلنے میں بہت سے نشانات ہیں دانشوروں کے لئے ۔ اولی الالباب قرآن کریم کی اصطلاح ہے جو دانشوری کے لئے استعمال ہوئی ہے کہ دانشور لوگوں کے لئے ان باتوں میں بہت سے نشان ہیں ۔ دانشور ہوتے کیا ہیں۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُو بِهِمْ یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے ہو کر بھی اور بیٹھے ہوئے بھی دن اور رات ہر حالت میں ، لیٹے ہوئے کروٹیں بدلتے ہوئے بھی خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کا سینہ معمور رہتا ہے۔ جب اس کیفیت کے ساتھ ایک انسان کا ئنات پر غور کرتا ہے تو ہمیشہ صحیح نتیجہ تک پہنچتا ہے۔ یہ تدبر کا پس منظر ہے جو سچی دانشوری کے لئے ضروری ہے۔ یہ فرمانے کے بعد حالانکہ دانشوری کا ذکر الہی سے بظاہر کوئی تعلق نہیں ۔ یہ فرمانے کے بعد یہ فرمایا گیا ہے - يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ دانشوری کا فکر سے تعلق ہے۔ بات یہ کہنی تھی که اولی الالباب وہ ہوتے جو الذين يتفكرون في خلق السموت و الارض جو زمین و آسمان پر غور کرتے رہتے ہیں لیکن یہ جملہ معترضہ کے طور پر بیچ میں یہ بات داخل فرما دی الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ یہ وہ لوگ ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے بھی ہر وقت خدا کو یاد رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ جب غور کرتے ہیں زمین و آسمان پر ، یہ لوگ جب کائنات کے حالات پر فکر کی نظر رکھتے ہیں تو ان کا تدبران کو جہنم سے دور لے جاتا ہے جہنم کی طرف نہیں لے کر جاتا ۔ اور یہ خدا سے دعا دعا کرتے ہیں رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ اے ہمارے رب! تو نے یہ کائنات باطل پیدا نہیں کی فائدے کے لئے پیدا کی ہے نقصان کے لئے پیدا نہیں کی ۔ اس لئے ہمیں بھی مقصود کائنات کے مطابق بنادے مقصود کائنات