خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 765 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 765

خطبات طاہر جلدے 765 خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۸۸ء اڈے ہیں ان کو نظر میں رکھنا ان کو Cordon Off کرنا۔بعض وبائیں ہیں جن کا علاج یہ ہوا کرتا ہے کہ ان سے بچنے کے لئے ایک جگہ ایک فصیل بنا دی جاتی ہے۔تو جو جانے والے ہیں جو امکانی طور پر جانے والے ہیں ان کو وہاں سے روکنے کی کوشش کرنا باقاعدہ منظم طریق پر اور اس طرح ایک نہ دکھائی دینے والی فصیل قائم کر دینا جو ویسے آنکھ سے نظر نہ آئے ، نہ کان سے سنائی دے لیکن موجودضرور ہو اور اس کی دیوار میں اونچی ہوتی رہیں۔یہ سارے اقدامات اور ایسے اور بہت سے اقدامات ہیں جن کو اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بغیر حکومت ، بغیر طاقت ، بغیر جبر کے استعمال کے معاشرے کے اندر بہت سی نئی خوبصورتیاں جنم لینے لگتی ہیں اور بہت سی بدیاں معاشرے کو چھوڑ نا شروع کر دیتی ہیں۔جہاں تک بدیوں کے اڈوں کا تعلق ہے بعض بیہودہ حرکتوں والے ایسے اڈے جہاں بدیاں دکھائی دیتی ہیں ان کے متعلق اور بھی بہت سی باتیں ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ ان سے زیادہ دلکش اڈے بھی تو بنانے چاہئے۔یہ نہیں کہ بعض اڈے آپ بند کر رہے ہوں۔ان کی جگہ دوسرے اڈے جاری ہونے چاہئے جہاں نو جوان بیکا رلوگ ، غریب لوگ جن کے لئے لذت یا بی کے کوئی سامان نہیں ہیں جن کو تسکین قلب کے لئے کچھ میسر نہیں ان کو معاشرہ یہ چیزیں مہیا کرے۔ان سے سر پرستی کا سلوک کرے، ان سے پیار اور محبت کا سلوک کرے۔تو یہ سب چیزیں مجموعی طور پر اگر اختیار کی جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے غیر معمولی نتائج ظاہر ہوں گے۔کچھ اڑے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو ہم دانشوروں کے اڈے کہتے ہیں۔یہ ظاہری طور پر یہ نہیں کہا کرتے کسی کو کہ تم بد ہو جاؤ۔وہ یہ نہیں کہتے کہ تم فلاں ڈرگ استعمال کرنی شروع کر دو یا شراب نوشی کر و یا یہ کر دیا وہ کرو۔یہ بظاہر نیکی کی تلقین کرنے والے اور بدیوں کا نوٹس لینے والے اڈے ہوتے ہیں لیکن اس طریق پر یہ کام کرتے ہیں جو قر آنی تعلیم کے بالکل منافی اور مخالف ہے۔دانشور کا جہاں تک تصور ہے پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ دانشور ہے کیا۔قرآنی اصطلاح میں دانشور کون ہوتا ہے اور بنتا کیسے ہے۔جہاں تک قرآن کا تعلق ہے قرآن کریم فرماتا ہے: