خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 764 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 764

خطبات طاہر جلدے 764 خطبہ جمعہ ا ا ر نومبر ۱۹۸۸ء کامیاب ہو جاتے ہو تو ضرور ایسا کرو اور بھا گونہیں کیونکہ ہم نے تو میدان سر کرنے ہیں۔یعنی اگر تمہیں خطرہ ہے کہ اس جہاد میں تم مار کھا جاؤ گے تم میں طاقت نہیں ہے تو اپنی اولا دکو ضائع کر دو گے بجائے اس کے کہ دوسروں کو بجاؤ تو تمہیں میرا مشورہ ہے کہ ضرور واپس چلے جاؤ کیونکہ خدا تعالی طاقت سے بڑھ کر کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا اور اولاد کا سودا کرنا بعض پہلوؤں سے دنیا وی لحاظ سے اچھے معاشرے میں رہنے کے لئے یہ کوئی حکمت کی بات نہیں ہے بہت ہی نقصان کا سودا ہے۔پس اس پہلو سے عمومی معیار ربوہ کا بلند کر دیا جائے یا دوسری احمدی بستیوں کا بلند کیا جائے کہ وہاں مریض لوگ بے چینی محسوس کریں۔بدیوں کے شکار سمجھیں کے یہاں کوئی مزہ نہیں آرہا یعنی جگہ قبول نہیں کرتی ہمیں۔معاشرہ رد کر دے ان لوگوں کو۔معاشرہ ان لوگوں سے تعلق کاٹ لے بغیر اس کے کہ مقاطعہ کا اعلان ہو۔معاشرہ کا عملی وجود مقاطعہ کر رہا ہو اور یہ ظاہر کر رہا ہو کہ ہم الگ ہیں اور تم الگ ہو تمہاری ہمارے اندر کوئی گنجائش نہیں ہے۔یہ احساس جب دلوں میں پیدا ہو تو پھر ایسے لوگ ان شہروں کو چھوڑ کر بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔پھر وہ لوگ مثلاً ایسے دکاندار جو نیک فطرت ہیں، دیندار ہیں، پانچ وقت نمازوں میں حاضر ہوتے ہیں ، کاروبار کے وقت اذان سنتے ہیں تو تالے لگاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی بھی کوششیں ہونی چاہئیں۔معاشرے میں یہ احساس پیدا کرنا چاہئے کہ یہ زیادہ حقدار ہیں کہ تم ان کی طرف توجہ کرو۔اگر ایسے لوگ اگر اپنی نا کبھی یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے دام زیادہ وصول کرتے ہیں تو پھر ان کو سمجھایا جائے۔انصر اخاک ظالما او مظلوما ( بخاری کتاب المظالم و الغضب ، حدیث نمبر :۲۲۶۳) اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔ان معنوں میں اس کی مدد کرو کہ ظلم سے اس کے ہاتھ روکو، اسے تجارت کے بہتر طریق سکھاؤ اس کو بتاؤ کہ یہ وجہ ہے کہ تمہاری دکان لوگوں کے لئے مطمح نظر نہیں بن رہی۔اس لئے تم ان باتوں کو چھوڑ و یہ طریق اختیار کرو۔کوشش یہ کریں کہ نیک دکانداروں کی تجارت زیادہ چھکے اور زیادہ لوگ ان کی طرف مائل ہوں۔پھر اور بہت سے طریق ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو قرآن وسنت کی روشنی میں نصائح فرمائی ہیں ان نصائح میں اتنی عظیم الشان قوت ہے اور ایسی تحریریں ہیں جو ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گی ان کو مختلف قطعات میں خوبصورتی کے ساتھ سجا کر آویزاں کیا جائے اور نمایاں کیا جائے ان جگہوں پر جہاں خطرہ ہے کہ اس قسم کے لوگ بیہودہ حرکتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح دوسرے برائی کے