خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 762 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 762

خطبات طاہر جلدے 762 خطبہ جمعا ارنومبر ۱۹۸۸ء بہت چند لوگ رہ جاتے ہیں۔بھاری اکثریت ہے جو شفایاب ہو جاتی ہے ان نسخوں کے استعمال سے۔بہت معمولی اقلیت رہ جاتی ہے ان کو پھر سمجھانا چاہئے کہ میاں ! یہ جگہ تمہارے لئے مناسب نہیں ہے۔اپنی صلى الله مرضی اپنے ماحول کے شہر تلاش کرو اور وہاں منتقل ہو جاؤ۔جہاں تک رائے عامہ کا تعلق ہے اس کا ایک طریق اور بھی ہے۔یعنی سوسائٹی بحیثیت مجموعی جب سدھر جاتی ہے تو سارے جسم کا دباؤ خود بیماریوں کو باہر نکال کر پھینک دیا کرتا ہے۔اسے ہم رائے عامہ تقدیری کہہ سکتے ہیں یعنی وہ رائے عامہ جو عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس اثر کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ مدینہ میں یہ طاقت موجود ہے کہ اس کا صالح معاشرہ بدوں کو باہر نکال دے۔یہ ایک ایسے شخص کے متعلق فرمایا جس نے آکر بیعت کی اور بیعت کے چند روز کے بعد وہ حاضر ہوا اس نے آنحضرت ﷺ کا نام لے کر مخاطب کیا کہ میں نہیں اب مسلمان رہنا چاہتا۔مجھے میرا اسلام واپس کر لیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں ! یعنی اس کو سمجھانے کی خاطر لیکن وہ یہ سمجھتا تھا کہ اسلام کوئی ایسی چیز ہے جس طرح کوئی مادی چیز ہوتی ہے اس نے وصول کر لی اور مجھے واپس کر دے۔رسول اللہ لا یہ حکمت اور پیار سے اور خاص اپنی نصیحت کے انداز سے اس پر یہ اثر ڈالتے تھے کہ تمہارا اسلام رہنا ہی بہتر ہے لیکن آخر وہ یہ کہ کر وہاں سے چلا گیا کہ واپس کریں یا نہ کریں میرا کوئی تعلق نہیں اور پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔اس پر حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جس میں جب زنگ آلود لوہا ڈالا جاتا ہے تو لوہے کو قبول کر لیتی ہے اور زنگ کو نکال کے باہر پھینک دیتی ہے۔(بخاری کتاب الاحکام حدیث نمبر : ۶۶۷۱) تو اسی طرح صحیح صحت مند معاشروں کا حال ہوا کرتا ہے۔ان معاشروں سے متضاد چیزیں ان سے ٹکرانے والی چیزیں وہاں بے چینی محسوس کرتی ہیں اور کچھ عرصے کے بعد وہ اپنے آپ کو اجنبی پاتے ہوئے اس جگہ کو چھوڑ کر چلی جایا کرتی ہیں بعینہ یہی صحت مند صالح جسم کا حال ہے۔جو جسم صالح اور صحت مند ہو بھی مختلف قسم کے جراثیم اور کیڑوں مکوڑوں کے حملوں کا شکار تو ضرور ہوتا ہے لیکن وہ کیڑے اجنبیت محسوس کرتے ہیں اس ماحول میں۔وہ اسے چھوڑ کے چلے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ یکجان نہیں ہو سکتے۔چنانچہ میں نے ہومیو پیتھک علاج میں اس کو بارہا آزمایا ہے۔بعض ایسی دوائیں ہے جو جسم کو