خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 745
خطبات طاہر جلدے 745 خطبه جمعه ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء یہ معاملہ سمجھا دیا۔میں نے کہا اب آپ ایک موقع اور لینا چاہتے ہیں یا میرے سپر د کرنا چاہتے ہیں کہ میں خود سنبھال لوں۔تو انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے وکیل اعلیٰ ہونے کے لحاظ سے میری ذمہ داری تھی مگر میں اب عہد کرتا ہوں کہ واپس جا کر پوری ہوشمندی کے ساتھ جس حد تک ممکن ہے ایک سال کے اندر اندر ان سب بظاہر گمشدہ بزرگوں کو دوبارہ دریافت کرنے کی کوشش کروں گا اور جو بقیہ نام رہ جائیں گے وہ ہم آپ کو بھیج دیں گے تاکہ اپنے طور پر آپ نے جو کوشش کرنی ہے کریں۔تو اس پہلو سے میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے ایک بڑی تعداد، بہت بھاری تعداد ان میں سے ایسی ہوگی جن کا چندہ دائمی ہو جائے گا اور میں نے تحریک جدید کو یہ بھی کہا تھا کہ جب اس کام سے آپ فارغ ہو جائیں تو پھر وہ ایسے تمام افراد جن کے متعلق سب کوششوں کے باوجود ہم معلوم نہیں کر سکتے وہ کہاں ہیں ان کے متعلق میں وعدہ کرتا ہوں کے انشاء اللہ تعالیٰ حسب توفیق ان کے چندوں کو زندہ رکھنے اور جہاں تک خدا تعالیٰ نے زندگی عطا فرمائی اس وقت تک اس عہد کو نبھانے کی کوشش کروں گا۔تو اس لحاظ سے میں امید رکھتا ہوں کہ سوائے ان چند لوگوں کے جو بعض ابتلاؤں کا شکار ہو گئے اور جماعت سے ہٹ گئے باقی سب کے کھاتے ہمیشہ کے لئے دوام پکڑ جائیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ تا ابد زندہ رہیں گے۔دفتر اول کے بعد دفتر دوم کو پینتالیس (۴۵) واں سال ہے اور دفتر سوم کو چوبیس (۲۴) واں سال ہے اور چہارم جو چوتھا سال ہے اس کے آغاز کو صرف چار سال ہوئے ہیں۔دوسرا پہلو خاص قابل توجہ یہ ہے کہ جماعت کو میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ صرف چندے کو بڑھانا ہمارا مقصد نہیں بلکہ چندہ دینے والوں کی تعداد کو بڑھانا اولیت رکھتا ہے۔جہاں تک جماعت کی ضرورتوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام بڑھتی ہوئی ضرورتیں خود بخود پوری ہوتی چلی جارہی ہیں۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ ہماری کام کی توفیق کے ساتھ خدا تعالیٰ خرچ بھی مہیا کرتا جاتا ہے یعنی ضرورت تو یہ ہے کہ ساری دنیا میں ہر جگہ ہم فوری طور پر با قاعدہ مساجد قائم کریں، مشنز قائم کریں اور تبلیغ کا کام شروع کریں اور سارے عالم کا کام سنبھال لیں۔یہ ضرورت تو بہر حال ہمیشہ کے لئے ہے لیکن آپ سوچیں گے کہ یہ ضرورت تو پوری نہیں ہو رہی۔میں جب کہتا ہوں کہ خدا ضروتوں کو پورا کرنے کا کفیل ہے اور کبھی بھی اس نے خالی ہاتھ نہیں چھوڑا تو میری مراد یہ ہے کہ ہماری