خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 70
خطبات طاہر جلدے 70 خطبه جمعه ۲۹ جنوری ۱۹۸۸ء جوانوں کو بھی اسلامی تعلیمات کی تربیت دی جائے خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ہم دوسرے مسلمان فرقوں سے اسلام کے بارہ میں مختلف رائے رکھتے ہیں جو کہ لازماً قرآنی اصولوں اور پیغمبر اسلام ﷺ کے بیان کردہ اصولوں پر مبنی ہے۔ تاہم ابھی بھی کئی علاقے اختلاف رائے کے موجود ہیں۔ ان علاقوں میں خاص طور پر ان کی تعلیم کا سامان ہونا چاہئے ۔ وہ تمام اطراف سے خوفزدہ ہیں۔ بہت مشکل اور الجھے ہوئے سوالات دوسرے ملنے والے لوگوں کی طرف سے ان سے کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر انہیں اچھی طرح تربیت نہ دی گئی تو وہ اعتماد کی کمی کا شکار ہو جائیں گے اور کبھی بھی ایسے داعیان الی اللہ کے طور پر نہیں نکلیں گے جس طرح کی مستقبل میں میری خواہش ہے۔ پس اس بارہ میں خصوصی توجہ دی جانی چاہئے ۔ جو سوالات پوچھے گئے ان میں بیشتر کے جوابات ان کیسٹس میں پہلے ہی موجود تھے جو آپ کے سیرالیون مرکز کو بھجوائی جا چکی ہیں۔ ان موضوعات پر میری سینکڑوں گھنٹوں کی گفتگو موجود ہے اور متنازعہ امور پر کوئی بھی ایسا سوال نہ تھا جس پر تفصیل کے ساتھ ، ہر پہلو اور ہر نقطہ نظر سے جواب نہ دیا جا چکا ہو۔ پس میں انتظامیہ کو ہدایت دے چکا ہوں کہ وہ کمیٹیاں قائم کریں۔ ایک کمیٹی کریول میں ترجمہ کیلئے دوسری منی زبان میں ترجمہ کیلئے اور تیسری مینڈے زبان میں ترجمہ کیلئے۔ یہ کمیٹیاں میرے سینکڑوں گھنٹوں پر مشتمل سوالوں کے جوابات میں سے ایسے پیرا گراف اور ایسے حصوں کا انتخاب کریں جو اس ملک کے لحاظ سے زیادہ متعلق اور مفید ہوں۔ پس میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ مستقبل قریب میں آپ سب کو وہ کیسٹس مہیا ہو جائیں گی ، سیرالیون میں ہر جگہ۔ جوان سوالات کے جوابات پر مشتمل ہوں گی جن سوالوں کا آپ کو غیر احمدیوں کی طرف سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجھے یقین واثق ہے کہ آپ کی روح اور جذبہ کی فراوانی کی بدولت جس کا میں نے سیرالیون کے عام احمدیوں میں بھی مشاہدہ کیا ہے۔ اگر تبلیغ کا یہ طاقتور آلہ مہیا کر دیا گیا تو انشاء اللہ یہ سب مستعد اور کامیاب داعیان الی اللہ بن جائیں گے اور یہاں احمدیت کا پھیلاؤ کئی سو گنا زیادہ ہو جائے گا۔ پس انشاء اللہ آپ جلد وہ دن ضرور دیکھیں گے جب آپ سب کو ضروری مواد مہیا کر دیا جائیگا۔ میں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اگر کسی غریب جماعت میں ، غریب دیہات میں لوگوں کو کیسٹ ریکارڈر خریدنے کی استطاعت نہیں ہے تو انہیں یہ مفت مہیا کیا جائے اور اس کے چلانے کے اخراجات بھی