خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 69

خطبات طاہر جلدے 69 خطبہ جمعہ ۲۹/جنوری ۱۹۸۸ء آپ کو نہیں ملے گی نہ صرف اس ملک میں بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی نہیں ملے گی۔اب میں سیرالیون کے احمدیوں کی عمومی حالت کا ذکر کرتا ہوں جن کو خوش قسمتی سے مجھے بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔جہاں کہیں بھی میں نے دورہ کیا ہے وہاں میں نے جماعت احمدیہ کے بہت بڑے طبقہ کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ان کو میں نے بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔میں ان کے ساتھ مجالس سوال و جواب میں گھنٹوں بیٹھا ہوں۔میرا مشاہدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ بہت ہی مستعد اور مخلص احمدی ہیں۔وہ اسلام کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ عمومی طور پر غریب لوگ ضرور ہیں مگر وہ اپنے ایمان اور اخلاص کے معیار سے غریب نہیں ہیں۔جہاں کہیں بھی میں نے دورہ کیا میں نے بوڑھوں اور جوانوں دونوں کو برابر ذہین، روشن دماغ اور متحرک پایا۔اگر ان کو ان خوبیوں کے استعمال کے مناسب مواقع مل جائیں تو وہ ستاروں کی طرح چمک سکتے ہیں۔مگر بد قسمتی سے یہ لوگ ضروری مواقع سے محروم ہیں۔پس جماعت احمدیہ کو اپنی خدمات کا دائرہ دوسرے شعبوں تک بھی پھیلانا چاہئے اور مجموعی طور پر ملک کو ہر پہلو سے مدد دینی چاہئے تاکہ یہاں کے غریب عوام کو اپنی اندر موجود صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل سکے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاندار خوبیوں سے نوازا ہے اور آپ صلاحیت کے لحاظ سے ایسی قوم ہیں کہ دنیا کی کسی دوسری قوم سے کم نہیں۔لیکن جہاں تک اسلامی تعلیمات کے ضمن میں خدمات کو وسیع کرنے کا تعلق ہے، جہاں تک اسلامی تعلیم وتربیت کا تعلق ہے۔اس میں بہت زیادہ وسعت اور بہتری کی ضرورت ہے۔میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگوں کے ساتھ وسیع رابطہ خاص طور پر نوجوان نسل کے ساتھ رابطہ تسلی بخش نہیں ہے۔میں نے لوگوں کو انتہائی بنیادی اور ابتدائی قسم کے سوالات کرتے ہوئے پایا جس کے بارہ میں انہیں پہلے ہی علم ہونا چاہئے تھا۔اگر چہ انہوں نے انتہائی گہرے، دلچسپ اور علمی سوالات بھی پوچھے ہیں لیکن عمومی طور پر میں نے محسوس کیا ہے کہ ہم تعلیم وتربیت کے معاملہ میں کمی دکھا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ احمدیت کا پھیلا ؤ جس قدر تیز ہونا چاہئے تھا اس طرح نہیں ہو رہا۔جب بھی میں ان کے سوالوں کا جواب دیا میں نے ان کے چہروں پر اطمینان کی مسکراہٹ بکھرتی ہوئی دیکھی اور تسلی کی چمک ان کی آنکھوں میں اجاگر ہوئی۔یہ دیکھنے کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اگر سیرالیون کے تمام احمدی بڑوں کو بھی اور