خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 736 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 736

خطبات طاہر جلدے 736 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء نظمیں ہیں اور اس دور کے شعراء میں بالعموم آپ یہ دیکھیں گے کہ محبت اور عشق کی باتیں سمو دی گئیں ہیں معاشرتی حالات کے ساتھ اور کسی نہ کسی رنگ میں اصلاحی اثر رکھتے ہیں۔تو ان کی نظمیں ہیں ان کی ریکارڈنگ کر کے اگر مہیا کریں اور نو جوانوں میں یہ شوق پیدا کریں کہ فلمی گانوں کی بجائے ان کی طرف متوجہ ہوں اور اس قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں جن کی تفصیل میں جانے کا یہاں وقت نہیں ہے لیکن میر امطلب یہ ہے کہ تعمیری کام ہیں۔تخریب کو آپ تخریب کے ذریعے ختم نہیں کر سکتے۔تخریب کو تعمیری پروگراموں کے ذریعے آپ ختم کر سکتے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے کلام کو اچھی آواز میں بھروا کر اس کو بھی عام مہیا کرنا، ایسی ادبی مجالس بنانا جہاں ان نوجوانوں کو بلایا جائے۔بجائے اس کے یہ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر وقت ضائع کریں ان کو وہاں اگر چائے بھی مہیا کر دی جائے تو شوق سے آئیں گے۔وہاں ان کے اندر علم وادب کی مجالس کا ذوق پیدا کیا جائے۔رفتہ رفتہ دین کی طرف متوجہ کیا جائے۔پھر جہاں تک ویڈیوز کا تعلق ہے آپ جانتے ہیں کہ مغرب میں ایسی اعلیٰ درجہ کی سائنسی اور معلوماتی ویڈیوز مہیا ہوتی ہیں کہ جن کو دیکھ کر یہ محسوس نہیں ہوتا ہے کہ انسان کچھ پڑھائی کر رہا ہے یا محنت کر رہا ہے بلکہ علم اس طرح آپ کے دل میں داخل ہو رہا ہوتا ہے جیسے آپ ایک پیاسے آدمی کو کوئی بہت ہی اچھا ، ٹھنڈا، میٹھا مشروب ملتا ہو۔اس کے ساتھ انہوں نے لذت شامل کر دی ہے۔ان قوموں کی جو خرابیاں ہیں ان خرابیوں سے بھی بعض دفعہ حسن پیدا ہوئے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے آہستہ آہستہ اپنے آپ کو عیاشی کا عادی بنالیا ہے۔اس لئے یہ راز سمجھ گئے ہیں کہ جب تک کسی چیز میں لذت نہ ہو اس وقت تک ہمارے نوجوان اس کو حاصل نہیں کریں گے۔چنانچہ انہوں نے علم کو بھی سجا کر پیش کرنا شروع کیا ہوا ہے۔اوپن یونیورسٹی کے پروگرام آپ دیکھیں وہ سارے پروگرام ویسے تعلیمی اور تدریسی ہیں مگر نہایت دلچسپ اور سوائے اس کے وقت کی مجبوری ہوا ایک دفعہ انسان اس کو شروع کر دے تو چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔تو ربوہ کو یا پاکستان کے دوسرے شہروں میں بسنے والے احمدیوں کو ان کی طرف کیوں مائل نہیں کرتے۔نظام جماعت کا کام ہے ایسی چیزیں باہر سے منگوائے ساری دنیا میں جماعت موجود ہے۔اگر جاپان میں مہیا ہوتی ہے تو اس کے ترجمے کروا کر ڈبنگ کروائی جائے اور اچھی اچھی ویڈ یو ایسی مہیا کی جائیں جو کرائے پر لیتے ہیں آپ مفت نہیں دے سکتے تو کم