خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 737 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 737

خطبات طاہر جلدے 737 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء کرائے پر ان کو دے سکتے ہیں۔یا ایسے مراکز قائم کر سکتے ہیں جہاں کئی کئی گھنٹے روزانہ شام کو یادو پہر کو یا چھٹیوں میں دن بھر ایسے پروگرام چل رہے ہوں اور نو جوان آئیں اور بغیر کسی خرچ کے آکر بیٹھ کر ان سے لذت یاب ہوں۔وہاں ایسے اساتذہ بھی ہوں جو سمجھائیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔مثلاً یہ جو فلمیں ہیں سمندر کی زندگی کی اور پرندوں کی زندگی ، حیوانات کی مختلف شکلیں ، ایکوسسٹم ہے دنیا میں وہ کس طرح چل رہا ہے۔کائنات کیا چیز ہے۔ان سب امور پر اتنی دلچسپ ویڈیوز موجود ہیں کہ اگر آپ یہ جائزہ لیں تو آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ یہ علمی ویڈیوز جو پاپ میوزک کی ویڈیوز ہیں ان سے زیادہ دنیا میں فروخت ہوئی ہیں۔اب کارل ساگون ہیں انہوں نے Universe کے اوپر فلمیں بنائی تھیں اور یہ نوبیل لارئیٹ ایک بڑے بھاری سائنسدان ہیں ان کی مدد سے کسی ویڈیو کمپنی نے ویڈیوز بنائیں اور انہوں نے بیسٹ سروس کا ساری دنیا کا ریکارڈ توڑ دیا۔اس لئے نہیں کہ لوگوں کو علم کا شوق تھا زیادہ ، اس لئے کہ نہایت ہی دلچسپ طریق پر وہ معلومات پیش کی گئیں تھی اور دیکھتے دیکھتے وہ کارل ساگون بھی لکھوکھہا ڈالر یا شاید اس سے بھی زیادہ کما گئے ان کا خفیف سا حصہ تھا اس میں۔تو عقل سے کام لینا چاہئے۔لذت پانے کی خواہش کو کچل کر کس طرح آپ بدیوں کو دور کر سکتے ہیں آپ نہیں کر سکتے یہ خدا سے ٹکرانے والی بات ہے۔خدا نے فطرت میں جو تمنا ئیں پیدا کی ہیں کوئی دنیا کی طاقت ان کو کچل نہیں سکتی، کوئی ان کو جڑوں سے اکھیڑ کے نہیں پھینک سکتی۔ان تمناؤں کا رخ بدلا جا سکتا ہے، ان تمناؤں کا ذوق تبدیل کیا جا سکتا ہے، بہتر ذوق ان کو عطا کیا جا سکتا ہے۔پس جب آپ بہتر ذوق عطا کرتے ہیں تو اس کے لئے جولو از مات ہیں وہ پورے کرنے ہوں گے۔تو ایسی علمی مجالس کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔پرانے زمانے میں مجالس ارشاد ہوا کرتی تھیں قادیان میں اور بڑے ذوق شوق کے ساتھ لوگ مسجد مبارک میں ہوتی تھیں تو سارے اردگرد کے محلوں سے اکٹھے ہوا کرتے تھے۔مسجد اقصیٰ میں ہوتی تھی تو وہاں بڑے جوش سے ذوق کے ساتھ لوگ جایا کرتے تھے اور وہاں صرف دلچسپ معلوماتی تقریریں یا نظمیں وغیرہ پڑھی جاتی تھیں۔آج اگر جلسوں پر لوگوں کو آپ بلا ئیں تو لوگ حاضر ہی نہیں ہوتے۔وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں یہ ذوق تھا کہ ان چیزوں سے لوگ لذت حاصل کر سکتے تھے۔اب وہ ذوق مٹ چکے ہیں اور Crude ہو گئے ہیں یعنی ان کی سطح نیچی ہوگئی ہے، زمین کے قریب تر ہو گئے ہیں بجائے آسمان کی طرف بلند ہونے کے۔