خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 735 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 735

خطبات طاہر جلدے 735 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء کرنے کی صلاحیت پیدا کر گیا۔اگر ادبی ذوق ہی نہیں ہے تو آپ اس کو دوسری طرف اسی قسم کی چیز میں منتقل کر نہیں سکتے۔جن کو شعر و شاعری کا شوق ہے وہی پھر آخر اعلیٰ درجہ کے لطیف مضامین کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کے کلام سے لذت یابی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔چنانچہ بچپن میں ہم بہت سے ایسے نوجوانوں کو جانتے تھے جن کا ابتدائی ذوق صرف دنیاوی شاعروں کے کلام تک محدود تھا لیکن رفتہ رفتہ پھر وہ دینی مضامین کی طرف منتقل ہو گیا ، پھر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے شیدائی ہو گئے ، آپ کے غلام کے عاشق بن گئے اور رفتہ رفتہ ان کی کیفیت بدلنی شروع ہوئی۔تو سوال یہ ہے کہ وہ چیزیں جو اس زمانے میں جرم دکھائی دیتی تھیں درحقیقت وہ جرم نہیں تھی بلکہ انسانی فطرت کے ساتھ ایک تعلق رکھنے والی ایسی باتیں تھیں جن کو ہم جدا نہیں کر سکتے۔ادب لطیف جس کو کہتے ہیں۔اس کے لئے انسانی فطرت میں خدا نے ایک طلب رکھ دی ہے۔اگر اس طلب کو آپ پورا نہیں کریں گے اور رستہ بند کریں گے تو پھر یہ کسی اور رخ کو اختیار کرے گی کوئی اور رستہ اپنا بنائے گی جو اس سے بدتر ہو گا۔اس لئے ایک طریق مثلاً یہ بھی ہے کہ بجائے اس کے کہ آپ سختی اور تشدد سے فلمی گانوں کے رجحان کو بند کریں آپ اچھے شعراء کا کلام جو نہایت اعلیٰ درجہ کا ، طبیعتوں پر اثر کرنے والا کلام ہے اس کو بغیر میوزک کے اچھے گانے والوں سے پڑھوا کر ان کے کیسٹس مہیا کریں اور وہ جو بیچارے کیسٹس بیچنے والے ہیں ان کی روزی کا بھی خیال کریں ان کو آپ یہ کہہ کر کس طرح گانوں کی فلمیں بیچنے سے روک سکتے ہیں کہ بہت بری بات ہے۔آپ کے لئے تو بری بات ہے اس نے تو اس سے روٹی بھی کمانی ہے بیچارے نے اس لئے اس کا بھی متبادل انتظام ضروری ہے۔اس ذوق کی تسکین کرنے لئے کوئی اچھی چیز ہو جو اس برے ذوق سے لوگوں کو روک سکے۔تو ایسے ایسے اچھے کلام میں کلاسیکل اگر نہیں تو ہمارے موجودہ زمانے میں بھی بڑے بڑے اچھے شعراء پیدا ہوئے ہیں مثلاً فیض احمد فیض ہے، احمد فراز ہیں، احمد ندیم قاسمی بھی بہت اچھا کہنے والے ہیں۔ان کی مختلف قسم کی نظمیں ہیں۔کچھ معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے انہوں نے نظمیں ایسی کہیں ہیں جو بظاہر عشق کی باتوں سے شروع ہوتی ہیں بالآخر وہ معاشرتی برائیوں کے تجزیہ پر جا کرختم ہوتی ہیں اور بڑا با اثر کلام ہے۔محمد دین تاثیر ہوا کرتے تھے ان کا بہت اعلیٰ درجہ کا کلام تھا، بہت اچھی اچھی