خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 733 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 733

خطبات طاہر جلدے 733 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء نہیں کرتے بلکہ اس کے لئے پاپ میوزک کی ضرورت پیش آتی ہے۔مذاق بگڑے ہیں رفتہ رفتہ اور مادیت کی طرف زیادہ میلان ہوتا چلا گیا ہے۔مذاق اگر لطیف ہوں تو ایک اچھا کلام ، ایک اچھا ادب پارہ انسان کے دل میں اور دماغ میں ایسا تموج پیدا کر دیتا ہے کہ دنیا میں جو عام میوزک کے شیدائی ہیں ، نغموں کے شیدائی ہیں وہ ان لذتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔اس لئے مذاق کی صحت کی طرف اور درستی کی طرف توجہ بہت ضروری ہے۔اگر آپ جائزہ لیں گے پاکستان کا مثلاً خصوصیت سے تو آپ وہاں بھی یہ محسوس کریں گے کہ پرانی نسلوں کا ادبی معیار بلند تر تھا۔جو پہلے زمانے کے لوگ تھے یا بچے پڑھا کرتے تھے ان کے سکولوں میں بھی اور سکولوں سے باہر بھی ایک ادبی ذوق شوق کا ماحول تھا اور شعر و شاعری کا ماحول تھا۔وہ شعر و شاعری اس زمانے میں بعض نیک لوگوں کو بہت ہی بری لگا کرتی تھی۔وہ سمجھتے تھے یہ لڑکے تباہ ہو رہے ہیں شعر و شاعری کی وجہ سے لیکن آج کے ماحول میں اگر دیکھیں تو وہ شعر و شاعری کے ماحول میں پلنے والے لوگ یہ پاپ میوزک کے شیدائیوں کو پاگل سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ تباہ ہو رہے ہیں۔تو یہ نسبتی چیزیں ہیں اور ان کے عوامل پر آپ غور کریں تو آخری تان اس بات پر ٹوٹے گی کہ معاشرے کا مذاق بعض مطالبے کرتا ہے۔اگر آپ نے مذاق کی اصلاح نہ کی اور مطالبوں کی راہ میں کھڑے ہو گئے تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔مذاق بلند کریں اور مذاق کے مطالبہ پورے کریں۔یہ دو چیزیں اکٹھی ہونا ضروری ہے۔اب آپ یہاں انگلستان کے معاشرے کو دیکھ لیں اس کا مقابلہ آج سے چالیس پچاس سال پہلے سے کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بھاری تعداد انگریزوں کی اس زمانے میں کتابیں پڑھنے کی عادی ہوتی تھی اور ان کا جو سکون کا تصور تھا وہ یہ تھا کہ جس شخص کو جب وقت ملتا ہے کتاب لے کر الگ بیٹھ جائے اور اگر شعروں کا شوق ہے تو شعروں کی کتاب لے لی ، ادب کا شوق ہے تو ادب کی، ناول کا شوق ہے تو ناول اٹھا لئے لیکن پڑھنے میں لذت حاصل کرتا تھا۔اب ایک بھاری فیصد تعداد ان لوگوں کی ایسی ہے جو صرف ٹیلی ویژن دیکھ کر لذت یابی کرتی ہے اور وہ لوگ جو باہر نہیں نکل سکتے جو گھروں میں بیٹھتے ہیں اب وہ زیادہ تر پڑھنے کی بجائے وہ ٹیلی ویژن کا سوئچ آن کیا اور بیٹھے نظارے دیکھتے رہتے ہیں۔پھر جس قسم کی تربیت ٹیلی ویژن ان کی کرتی ہے ان کی اس کے ساتھ ساتھ ہوتی چلی جاتی ہے۔جولوگ ادبی ماحول کی پیداوار ہیں ان کے دلوں کی لذت کا مقابلہ اگر آپ