خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 732
خطبات طاہر جلدے 732 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء پس اصلاح کا جو منبع ہے وہ آپ کا دل ہے۔آپ کے دل میں اگر حسن ہوگا تو آپ اصلاح کر سکیں گے ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے سختی کے ذریعے بدی کو روکنے کا کہیں کوئی حکم نہیں ملتا۔ہاں حسن کے ذریعے برائی روکنے کا حکم ہے۔حضرت اقدس محمد اصلى الله مصطفی حسن کی آماجگاہ تھے۔ایک حسن کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا جس کو خدا نے یہ طاقت ودیعت کی تھی کہ ہر بدی پر اپنے حسن کی موجوں کے ذریعے غالب آجائے۔پس ہم نے اگر حضرت محمد مصطفی ﷺ کا رخ اختیار کرنا ہے تو خیر اہم بنا ہمارے مقدر میں ہے۔ہم لا ز ما خیر ام بنیں گے اور اس سنت کی برکت سے ہم برائیوں پر غلبہ پا جائیں گے لیکن اگر سنت مغرب کی اختیار کریں یا دنیا داروں کی اختیار کریں اور دعوئی یہ کریں کہ ہم نے برائیوں کا قلع قمع کرنا ہے تو یہ جھوٹی بات ہے۔ایک حمقاء کی جنت ہے جس میں آپ بستے ہیں۔اس لئے ان چیزوں کی طرف حکمت سے توجہ کریں اور مزید معلوم کریں کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو ان نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں اور ان عوامل کو دور کرنے یا اچھے عوامل کے ذریعے ان کو Replace کرنے یعنی ان کو رفتہ رفتہ اس طرح دور کرنے کی توفیق پائیں کہ اچھی چیز دیں تب بری چیز باہر نکلے۔خالی برائیوں کو دور کرنے کا تو کوئی تصور قرآن کریم میں نہیں ہے۔خلاؤوں کو بھرنے کا تصور ہے۔خلا پیدا کرنے کا کوئی تصور نہیں اور نہ خلا ہوا کرتا ہے دنیا میں حقیقت میں۔بدی ہے وہ تب جگہ چھوڑے گی اگر کوئی اور طاقتور چیز اس کی جگہ داخل ہو جائے اور اس کو دھکیل کر باہر نکال دے گی اور قرآن کریم فرماتا ہے۔اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ حسن میں یہ طاقت ہے اور حسین چیزوں میں یہ طاقت ہے کہ وہ بدیوں کو دکھیل کر باہر نکال دیں۔اس لئے آپ کو ایسی طاقتور خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنی ہوں گی اور ایسے طاقتور حسین ذرائع اختیار کرنے ہوں گے جن کے ذریعے بدیاں لازماً ان جگہوں کو چھوڑ جائیں جہاں آپ کا حسن داخل ہونا شروع ہو جائے۔اس سلسلے میں میں نے کئی قسم کی بدیوں پر غور کیا مثلاً گانا بجانا اور اس قسم کی چیزیں ہیں آپ ساری دنیا میں یہ بات دیکھیں گے یہ صرف مشرق کی بات نہیں، پاکستان کی بات نہیں، ربوہ کی بات نہیں کہ رفتہ رفتہ مذاق بدل رہے ہیں اور مذاق زیادہ مادہ پرستی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ایک زمانہ تھا جبکہ ایک شاعر کا کلام ایک انسان کے دل میں وہ جذبات انگیخت کر دیا کرتا تھا جواب عام نغمے بھی