خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 725 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 725

خطبات طاہر جلدے 725 خطبه جمعه ۲۸ را کتوبر ۱۹۸۸ء انتظار کریں کہ یہ بیماریاں بڑھ جائیں اور ضرر رساں اس حد تک ہو جائیں کہ ساری سوسائٹی ان کا دکھ محسوس کرنے لگے۔جو ملوث ہیں وہ تو تکلیف اٹھائیں گے بہر حال، جو ماحول ہے بعض دفعہ وہ بھی متاثر ہوکر تکلیف اٹھانے لگ جاتا ہے۔اس وقت پھر اچانک بعض جگہ بیداری پیدا ہوتی ہے اور کہتے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔ان کو جماعت سے نکالا جائے ان کو پولیس میں دیا جائے اور کئی قسم کی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں مگر وہ وقت در اصل اصلاح کا وقت نہیں ہوا کرتا۔اس وقت معاملہ ہاتھ سے گزر چکا ہوتا ہے۔اسلام کا جو تصور قرآن کریم نے پیش کیا اور حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے اپنی سیرت میں عملی نمونہ کے طور پر دکھایا وہ عام دنیا کے مواخذہ کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔وہاں برائیاں ابھی جڑ بھی نہیں پکڑ چکی ہوتیں کوشش کر رہی ہوتی ہیں تو ان کے خلاف انسدادی کاروائی شروع ہو جاتی ہے اور تمام تذکیر کا نظام جو قرآن میں ملتا ہے اور جس کو ہم نے سنت کی شکل میں حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی سیرت میں جاری دیکھا ہے وہاں آپ کو پھل کا انتظار کرتے ہوئے لوگ دکھائی نہیں دیں گے یعنی کڑوے پھل کا انتظار کرتے ہوئے لوگ دکھائی نہیں دیں گے۔آپ کو ایسے مدبر دکھائی دیں گے جو یہ نظر رکھتے ہیں کہ بیج کہاں گرا ہے اور وہ کون سی زمین ہے جو اس کو نشو و نمادینے کے لئے آمادہ دکھائی دیتی ہے اور وہاں سے اس کی بیخ کنی کی جاتی ہے۔سب سے پہلے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا یہ برائیاں نیت پر حملہ کرتی ہیں اور پہلے صلى الله نیتیں بگڑا کرتی ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی علی نے ہمیں متنبہ فرمایا کہ سب سے پہلے اپنی نیتوں کی فکر کرو۔اگر تمہاری نیتیں بدل گئیں تو پھر معاملے کو سنبھالنا بہت مشکل ہو جائے گا۔کئی قسم کی حسین خوبصورت واضح مثالیں دے کر آنحضرت ﷺ نے سمجھایا کہ دل جب ایک طرف رخ کرنے کا فیصلہ کر لیا کرتا ہے تو ظاہر میں جسم کا رخ کسی اور طرف بھی دکھائی دے تب بھی بالآخر بات وہیں پہنچے گی جہاں دل نے فیصلہ کیا ہوا ہے۔اس لئے ایک بات سب سے پہلے کھول کر ہمیں اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے کہ دو ہی رخ ہیں جن کو ہم نے اپنے لئے اختیار کرنا ہے ایک وہ جو حضرت اقدس محمد مصطفی حملے کا رخ ہے جس کے آپ قافلہ سالار ہیں، جن کے پیچھے قدم بڑھاتے ہوئے ہم نے آگے خیرات کی طرف بڑھنا ہے اور ایک وہ رخ ہے جو دنیا پرستی کا رخ