خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 721 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 721

خطبات طاہر جلدے 721 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء اس مضمون پر میں احادیث نبوی کی روشنی میں پہلے تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں۔آج میں خاص طور پر بعض برائیوں کا ذکر کر کے بتانا چاہتا ہوں کہ جہاں تک میر اعلم ہے یہ برائیاں احمدی معاشرے میں بھی نفوذ پا چکی ہیں اور سُرعت کے ساتھ داخل ہو رہی ہیں۔جو خبریں پاکستان سے ملتی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ شہروں میں تو اس پہلو سے بعض جگہ یورپ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔بعض امیر حلقوں میں یہاں تک بات آگے بڑھ گئی ہے کہ باقی ملک جن کو برائیاں سمجھتا ہے ان حلقوں میں اب وہ برائیوں کے طور پر دیکھی نہیں جاتیں کیونکہ ان کے ساتھ ان برائیوں سے میل جول ہو گیا ہے، بے تکلفی ہوگئی ہے، اب وہ غیر دکھائی نہیں دیتیں ، وہ معاشرے کا جز و بنتی چلی جارہی ہیں۔اس پہلو سے احمدی حلقوں میں خصوصیت سے یہ فکر کرنی چاہئے کہ ہم کب تک ان جزیروں کی صورت میں ان علاقوں میں رہ کر ان سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔جب تک جیسا کہ میں نے کہا ہے جارحانہ اقدام نہ کریں اور تمام معاشرے میں بطور مذکر ان برائیوں کے خلاف عام نصیحت نہ شروع کر دیں اس وقت تک در حقیقت ہم اپنے آپ کو ان بدیوں سے بچا نہیں سکتے۔ہم یہ نہیں کر رہے جہاں تک میر اعلم ہے جماعت احمدیہ کی کوششیں جماعت احمدیہ کے دائرے تک ہی محدود ہیں لیکن غیر یہ کر رہے ہیں اور بالا رادہ سکیمیں بنا کر جماعت احمدیہ کے نوجوانوں میں بدیاں داخل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔سب سے زیادہ ربوہ کو اس سازش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جہاں تک مجھے اطلا عیں ملتی ہیں اور یہ اطلاعیں صرف جماعت احمدیہ کی طرف سے نہیں بلکہ باہر سے بھی ملتی ہیں۔جب میں پاکستان سے رخصت ہو کر یہاں آیا اس کے بعد باقاعدہ سازش کے طور پر بڑی سطح پر اسی سکیمیں تیار کی گئیں کہ جن کے نتیجہ میں ربوہ میں بعض بدیاں داخل کرنے کی عملاً کوشش شروع ہو گئی۔چونکہ بر وقت ہمیں ان باتوں کا علم ہو گیا اس لئے دفاعی کوششیں بھی ساتھ جاری رہیں لیکن جو لوگ من طریق پر اور پیسے کی مدد کے ساتھ اور حکومت کی سرپرستی میں اس قسم کے اقدامات کرتے ہیں ان کے ذرائع بہت وسیع ہوتے ہیں اور چونکہ بعض برائیاں ایسی ہیں جو طبعی کمزوری کے طور پر بڑی جلدی انسانی عادتوں میں راہ پا جاتی ہیں۔اس لئے جہاں تک ظاہری مقابلے کا تعلق ہے جسے کہتے ہیں Odds ہمارے خلاف ہیں