خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 717
خطبات طاہر جلدے 717 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء آنہ بھی واپس نہیں آئے گا تو ہم نے مڑ کے نہیں پوچھنا۔اس نیت سے بے شک مدد کر واس سے آپ کو روکنا ہی نہیں چاہئے۔احسان سے روکنا اسلام کی تعلیم میں تو شامل نہیں ہے یہ اس کے منافی ہے۔ہاں عدل کو قائم کرنا ضروری ہے۔اس لئے آپ عدل کے قیام تک رہیں اور احسان سے نہ کیں۔یہ ہے مضمون جس کو وضاحت سے سمجھ جائیں۔پھر آپ ان کو یہ مطلع کر دیں کہ ہم نے چونکہ عدل کے تقاضے پورے کر دیئے ہیں پھر اگر آپ نے احسان کیا تو آپ کو پھر عدل کا دروازہ کھٹکھٹانے کا کوئی حق نہیں رہتا۔اور یہ عدل کا اعلیٰ مضمون ہے اس میں کوئی نا انصافی نہیں ہے نظام جماعت نے عدل کے تقاضے پورے کئے ، آپ نے ان کو مدنظر رکھ کر احسان کا سلوک کیا اور احسان کا سلوک آپ کا ایک ایسی جگہ ہو گیا جو احسان فراموش نکلا، پھر احسان جب فراموش بھی کر دیئے جاتے ہیں تو احسان کو عدل کا دروازہ کھٹکھٹانے کا حق نہیں ہوا کرتا۔جو آپ نے چیز تحفہ دے دی ہے وہ تحفہ ہو گیا بس پھر بات ختم۔اس کو تھوک کر آپ چاٹ نہیں سکتے تو ایسے قرضے بھی ہوتے ہیں ان میں تحفے کی نیت شامل ہوتی ہے۔بعض دفعہ نظام جماعت کی طرف سے بعض لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنی پڑتی ہیں۔وہ مجھے لکھتے ہیں کہ ہم یہ قرض ادا کر دیں گے۔یہ میں جانتا ہوں کہ ان کی حالت ایسی کمزور ہے کہ وہ قرض ادا نہیں کر سکتے یا جتنی دیر کے اندر کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی جانتا ہوں کہ نیک لوگ ہیں سادہ ہیں بد نیتی نہیں ہے۔تو بعض دفعہ جب خدا توفیق دیتا ہے ان کا قرضہ دیتے وقت میں یہ ہدایت کر دیتا ہوں بیت المال کو کہ ان سے آپ نے مطالبہ نہیں کرنا۔اگر خدا توفیق دے دے تو یہ واپس کر دیں اگر نہ دیں تو میں نے اس نیت سے دلوایا ہے کہ ان کی مدد ہی۔تو ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں آپ ایسا کریں بے شک لیکن یاد رکھیں کہ بعض ٹیڑھی طبیعیتوں والوں کی اگر آپ مدد بھی کریں گے تو آپ کسی نہ کسی نقصان کا ضرور موجب بن جاتے ہیں۔یہ فیصلہ آپ کا کام ہے لیکن اس بار یک نظر۔آپ کو دیکھنا ہو گا کہ اگر ایسے شخص کی آپ مدد کرتے ہیں جو بار بار آپ بھی ڈوبتا ہے اور دوسروں کو بھی لے کے ڈوبتا ہے، بار بار ایسی تجارتوں میں پیسہ لگاتا ہے جس کو سنبھالنے کا غم ہی نہیں ہے تو آپ جب اس کو پاؤں پر کھڑا کرتے ہیں تو اس کے ساتھ کچھ اور لوگوں کے پیسوں کی غرقابی کا بھی آپ انتظام کر رہے ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں مدد اس رنگ میں ہونی چاہئے کہ اس کی شریفانہ زندگی اور