خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 709
خطبات طاہر جلدے 709 خطبه جمعه ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ء وجہ جواز بھی تھی کہ بیرونی دنیا سے لوگ آنے والے بعض خرابیاں لے کر آتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔مگر یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے کہ برائیاں بہر حال ہر معاشرے میں موجود رہتی ہیں۔تو ان برائیوں سے جن سے دنیا کا کوئی حصہ بھی خالی نہیں ہے۔ان برائیوں سے نبٹنے کے لئے جماعت احمدیہ کو پیدا کیا گیا ہے۔یہ تمام دنیا کی مشترک بیماریاں ہیں۔کہیں کچھ کم ہیں کیونکہ جگہ جو اونچی ہو نسبتاً وہاں سیلاب کا پانی کم اثر دکھاتا ہے لیکن قرآن کریم نے جب یہ فرمایا کہ صلى الله ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :۳۲) تو اس سے یہ مراد ھی کہ حضرت محمد مصطفی امیے کے زمانے کا فساد جسے دور کرنے کے لئے امت مسلمہ کو پیدا کیا گیا ہے اس فساد سے کوئی دنیا کا خطہ نہیں بچ سکے گا۔اونچی جگہ ہو یا نیچی جگہ ہو ، خشکی ہو یا تری ہو، ہر جگہ تمہیں یہ فساد نظر آئے گا۔اس لئے اتنی بڑی ذمہ داری جس جماعت کے کندھوں پر ڈالی گئی ہو وہ اپنے اندر سے فساد کو صاف نہ کرے اس سے بڑی ہلاکت کی بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔اس لئے آپ کو بڑی گہری نظر سے اپنے نفوس کا مطالعہ کرنا پڑے گا، اپنے نفوس کو با قاعدہ جھاڑو دینا پڑے گا اور اس کام سے آپ فارغ کبھی بھی نہیں ہو سکتے۔آپ اپنے کمروں کی صفائی کر کے دیکھ لیں چھوٹی سی جگہ ہوا کرتی ہے چند دن میں پھر گند پڑ جاتا ہے۔بڑے نظم وضبط کے ساتھ چیزوں کو رکھیں اور سجائیں اور کتابیں بھی بالکل سلیقہ کے ساتھ لگا دیں کچھ دیر کے بعد پھر سب کچھ درہم برہم ہو جاتا ہے۔تو یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ مستقل جدو جہد کے بغیر زندہ رہ سکیں۔پس جماعت احمدیہ میں بھی بدیاں صاف کر دینا کافی نہیں ہے۔یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ آپ کو ہمہ وقت بدیوں کے خلاف جہاد کرنا پڑے گا۔اپنے نفوس میں بدیوں کے خلاف جہاد کرنا پڑے گا، اپنے گھروں میں بدیوں کے خلاف جہاد کرنا پڑے گا، اپنی گلیوں میں، اپنے شہروں میں، اپنے ملکوں میں غرضیکہ جہاں جہاں جماعت احمد یہ موجود ہے اس کو اس جہاد کا علم بلند کرنا ہے اور بلند رکھنا ہے اور سوئے جانے والے لوگوں کو جگاتے رہنا ہے یہ کام ہے جو ہماری ذمہ داری ہے۔اس پہلو سے جو میں نے بیان کیا تھا جو برائیاں خاص طور پر میرے پیش نظر ہیں ان میں ایک مالی بے راہروی ہے۔امیر ملکوں میں بھی مالی بے راہروی ہے ، غریب ملکوں میں بھی ہے۔اشتراکی ملکوں میں بھی ہے جہاں بظاہر اس کا کوئی وجہ جو از نظر نہیں آتا لیکن ہے اور اب تو خاص طور پر