خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 66
خطبات طاہر جلدے 66 خطبہ جمعہ ۲۹/جنوری ۱۹۸۸ء۔کہ ان سے تعزیت کر سکیں۔تو یہ ایک بہت بڑی قربانی ہے جو جماعت احمد یہ یہاں خاموشی اور صبر کے ساتھ محض اللہ کی خوشنودی کیلئے اور خدا کی مخلوق کی خدمت کیلئے کر رہی ہے۔پرنسپل صاحبان اور ان تعلیمی اداروں کے سربراہان خصوصی شکر یہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں جو کہ نظام تعلیم کیلئے زبردست خدمات بجالا رہے ہیں۔نہ صرف احمدیت کیلئے بلکہ نظام تعلیم کیلئے بھی۔جہاں کہیں بھی میں نے دورہ کیا ہے اور جہاں بھی حکومت کے اہم دفاتر کے لوگوں سے یا شہر کی اہم شخصیات سے ملا ہوں ان سب نے احمد یہ سکولز اور کالجز کے اعلیٰ نظم وضبط اور معیار کی میرے سامنے تعریف کی اور اس پر شکریہ ادا کیا۔ان تعلیمی اداروں میں جو طلبہ پڑھ رہے ہیں ان کا معیار بہت غیر معمولی ہے۔ان میں سے بعض نے تو براہ راست میرے سامنے اس کا اظہار نہ صرف مبارکباد دیتے ہوئے کیا بلکہ انہوں نے کہا کہ ان کو اور بھی ادارے میسر تھے جو بظاہر دنیاوی لحاظ سے اعلیٰ معیار کے تھے اور ساز وسامان کے لحاظ سے بھی بہتر تھے لیکن ہم نے اپنے بچوں کو احمد یہ اداروں میں بھجوانے کو ان اداروں پر اعلیٰ اخلاقی نظم وضبط اور معیار کی وجہ سے ترجیح دی۔ان باتوں کے علاوہ معیار تعلیم بھی اپنی ذات میں بہت اونچا ہے۔تو ان تمام چیزوں کی موجودگی ان اداروں کے سر براہوں کو ایک بہت بڑا خراج تحسین پیش کرتی ہے۔اللہ ان پر فضل نازل فرمائے اور ان کی مدد فرمائے کہ وہ یہ غیر معمولی معیار مستقبل میں بھی ہمیشہ برقرار رکھ سکیں۔اس موقع پر بجلی میں تعطل پیدا ہو گیا اور ساؤنڈ سسٹم معطل ہو گیا۔بجلی بحال نہ ہونے پر حضور نے بغیر لاؤڈ سپیکر کے خطبہ جاری رکھا اور فرمایا:) گزشتہ کچھ عرصہ سے احمد یہ سکولز میں نئے مذہبی نغمات متعارف کروانے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔ان میں احمدیہ ترانہ بہت مشہور ہے جو کہ پورے ملک میں بہت مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔تمام طلبہ خواہ وہ کسی مذہب اور مسلک سے تعلق رکھتے ہوں وہ بڑے فخر کے ساتھ اس نغمے میں شامل ہوتے ہیں اور یہ نغمہ قومی ترانے کے بعد بہت مقبول ہورہا ہے۔اس کے علاوہ بھی بہت سے ترانے سکولز میں متعارف کروائے جارہے ہیں۔میری تجویز ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ کی محبت ان ترانوں کے ذریعہ دلوں میں بٹھائی جاسکتی ہے کیونکہ افریقہ کے عوام موسیقی کے شوقین ہیں۔موسیقی کے آلات کے ذریعہ سے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے جو کہ عام تقریروں سے حاصل نہیں