خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 67

خطبات طاہر جلدے 67 خطبہ جمعہ ۲۹/جنوری ۱۹۸۸ء ہو سکتا۔اگر چہ ہم آلات موسیقی پر یقین نہیں رکھتے لیکن ہم موسیقی کو اسلامی اقدار پھیلانے کیلئے ایک آلہ کے طور پر استعمال کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔موسیقی سے میری مراد ترانے کا ردھم وغیرہ ہے۔یہ ترانے جو میں نے ہر جگہ سنے ہیں اگر چہ یہ آلات موسیقی کی مدد کے بغیر گائے گئے تھے پھر بھی ان میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ تھی۔افریقی آواز کی خوبی ہے کہ وہ اپنی ذات میں ہی بہت مترنم ہے نیز بہت شاندار اور دل کو لبھانے والی ہے اور آپ کبھی یہ محسوس نہیں کر سکتے کہ کسی چیز کی کمی رہ گئی ہے کیونکہ آواز اپنی ذات میں ہی کافی ہے اس پر مستزاد یہ کہ ہر روح فطرتی طور پر موسیقی مزاج ہے اور انہوں نے اپنی روح اور جذبات کو بہت زیادہ ان نعمات میں ڈالا ہوا ہے۔میں بہت ہی زیادہ متاثر ہوا اور خوشی کی لہر میرے دل میں دوڑ گئی جب میں نے مشاہدہ کیا کہ عیسائی بھی احمدی طلبہ کے ساتھ خوشی اور محبت کے ساتھ ان ترانوں میں شامل تھے جو رسول اللہ ﷺ کی مدح میں آپ پر درود بھیجنے کیلئے گائے جار ہے تھے۔اللہ کی بہت رحمتیں اور برکات آپ پر نازل ہوں۔جب احمدی بچے نعتیں گاتے تھے اور رسول کریم پر ان الفاظ میں درود بھیجے تھے صل علی نبینا صل على محمد صل علی شفیعنا صل علی محمد تو تمام سامعین نہ صرف عیسائی طلبہ بلکہ تمام سامعین ایک فطرتی روانی میں ان کے ساتھ شامل ہو جاتے تھے اور حمدیہ اور محبت کے نغمات میں ان کے ساتھ شامل ہو کر پیغمبر اسلام ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور وہ سب بیک زبان ہو کر ایک آواز میں گاتے : صل علی نبینا صل علی محمدصل علی شفیعنا صل على محمد صل على رسولنا صل على محمدصل على حبيبنا صل على محمد صلى الله پس میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں اس رجحان کی وسیع تر اور بھر پور انداز میں حوصلہ افزائی کی جائے گی اور احمدی ترانے سیرالیون کے لوگوں کے ترانے بن جائیں گے۔میری یہ بھی تجویز ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظموں میں سے جو محبت الہی اور عشق رسول اور انسانی ہمدردی پر مشتمل ہیں ان کا چناؤ کر کے ان کا یہاں کی مقامی زبانوں مثلاً مینڈے ہمنی اور کریول وغیرہ میں ترجمہ کیا جائے اور ان کو احمدی دیہاتوں میں متعارف کروایا جائے جہاں با قاعدگی کے ساتھ صبح اور شام ان ترانوں کو گایا جائے خواہ وہ اس وقت کام کر رہے ہوں یا وہ ان کے آرام کا وقت ہو۔یہ طریق احمدیوں کو تمام ملک میں اعلیٰ اخلاق سکھانے میں مدد دے گا۔