خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 700
خطبات طاہر جلدے 700 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء دنیا کی طاقت بدل نہیں سکتی۔وہ لوگ جو بغیر تکلیف کے انتظار کرتے رہتے ہیں کہ ہماری تقدیریں بدل جائیں گی ، ہم عظیم الشان مرتبوں کو حاصل کرلیں گے وہ جاہلوں کی خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں حقیقت کی دنیا میں نہیں رہتے۔قانون قدرت جو خدا نے بنایا ہے اس میں کوئی تبدیلی آپ نہیں دیکھیں گے۔اس لئے وہ معاشرہ جو حساس ہے اور جو تکلیف محسوس کرتا ہے وہ بیماریوں کو دور کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔جہاں تکلیف اٹھ جائے وہ معاشرہ اس بات کا اہل ہی نہیں ہے کہ وہ بیماریاں دور کر سکے۔اس لئے نہ صرف یہ کہ آپ اس مضمون کو سمجھ کر مجھے یہ تکلیف پہنچائیں تا کہ میرے دل میں رد عمل پیدا ہو اور میں اس کے لئے کوشش کروں بلکہ یہ نظر رکھیں کہ معاشرہ تکلیف محسوس کر رہا ہے یا نہیں کر رہا۔فالج زدہ جسم اور غیر فالج زدہ جسم میں یہ ایک فرق ہے۔مفلوج حصے تکلیف نہیں محسوس کرتے تو کیا وہ شخص جو مفلوج ہو گیا ہے وہ اس بات پر خوش ہو گا کہ مجھے اب درد کبھی نہیں ہوگی؟ جب وہ صحت مند تھا ہو سکتا ہے وہ خدا پر اعتراض کیا کرتا ہو کہ عجیب تقدیر ہے کہ مصیبت پڑی ہوئی ہے، فلاں جگہ دکھ اور فلاں جگہ ، یہ بچے روتے ہیں، بلبلاتے ہیں ان کا کیا قصور ہے۔وہ اس نظام کو سمجھتا نہیں کہ اسی میں اس کی زندگی کی حفاظت ہے اور جب اس کا جسم مفلوج ہو جاتا ہے پھر وہ روتا ہے کہ کاش مجھے تکلیف پہنچے۔وہ سوئیاں چھوتا ہے، چٹکیاں کاٹتا ہے، اپنے جسم کو ملتا ہے، مروڑ تا ہے دیکھنے کے لئے کہ کیا مجھے تکلیف پہنچتی ہے کہ نہیں اور جب اس کو تکلیف ہونا شروع ہو پھر اس کی جان میں جان آتی ہے تو یہ تکلیف حفاظت کی خاطر ہے۔اگر ہماری جماعتوں میں احساس بدی کو دیکھنے کے بعد تکلیف ہونا بند ہو جائے تو آپ یقین سمجھیں کہ یہ فالج زدہ جماعتیں ہیں۔وہ معاشرہ مفلوج ہو رہا ہے۔اس کی فکر کرنی چاہئے۔اس لئے میں اس مضمون کو بقیہ پھر انشاء اللہ بیان کروں گا کیونکہ ایک لمبا مضمون ہے اگلے خطبے میں بھی یہ جاری رہے گا۔اس وقت میں آپ کو یہ بنیادی باتیں بتانا چاہتا ہوں کہ جن برائیوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان برائیوں سے مقابلے کے لئے پہلے نیتوں کا درست کرنا ضروری ہے جس کے متعلق میں ذکر کر چکا ہوں پھر اپنے احساس اور شعور اور نگرانی کے نظام کی حفاظت ضروری ہے اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہمیں تکلیف پہنچ رہی ہے کہ نہیں۔اگر تکلیف پہنچ رہی ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ اسی تکلیف سے زندگی پیدا ہوگی اور اگر خدانخواستہ تکلیف ہونا بند ہو گئی ہے تو پھر اس سے زیادہ فکر کی ضرورت ہے۔اللہ ہمیں اس عظیم ذمہ داری کو ادا کرنے کی توفیق بخشے جو ہم پر نہ صرف اپنی اصلاح کی بلکہ غیروں کی اصلاح کی بھی عائد کی گئی ہے۔