خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 65
خطبات طاہر جلدے 65 خطبه جمعه ۲۹ جنوری ۱۹۸۸ء زبان کی مہارت اتنی نمایاں ہوتی کہ میں سننے والے لوگوں کے چہروں پر اس کا اثر دیکھ سکتا تھا۔ چنانچہ مجھے بہت خوشی ہوئی ۔ اگر چہ نظام تبلیغ میں یہ دوسری صف میں شمار کئے جاتے ہیں لیکن اللہ کے فضل سے حقیقت میں یہ کسی لحاظ سے بھی تبلیغ کی صف اول سے کم نہیں ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں نے فیصلہ کیا ہے کہ سیرالیون میں ایک مکمل جامعہ احمد یہ بنایا جائے ۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کیلئے ایک پیراماؤنٹ چیف نے اپنے علاقہ میں جگہ دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ وہ جماعت احمدیہ کی خدمات سے بہت متاثر ہیں ۔ انہوں نے کسی دنیاوی سکول یا کالج بنانے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کی جماعت کے ساتھ اس کی تیز رفتار ترقی میں تعاون کیا جائے تو یہ اس ملک کی عظیم خدمت ہوگی ۔ تو اس نقطہ نظر سے انہوں نے ایک بہت بڑا قطعہ اراضی دینے کا اعلان کیا ہے اور ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا ہے تا کہ یہاں سیرالیون میں ایک مکمل جامعہ احمد یہ شروع کیا جائے ۔ معاشرے کا دوسرا حصہ جس کی خدمات سے میں بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں وہ احمد یہ سکولز کا سٹاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں بہت سے احمدی واقفین زندگی ہیں لیکن ان کے علاوہ بہت سے ایسے ہیں جو کہ احمدی بھی نہیں لیکن ان کی ادارے کے ساتھ وفا ایسی ہے کہ وہ ایک احمدی کی روح کے ساتھ خدمت کر رہے ہیں۔ ان کا جو بھی مذہب ہے میں نے تو عیسائیوں کو بھی احمد یہ سکولز میں احمدیت کے پیغام کے ساتھ مکمل انتہاک سے خدمت کرتے ہوئے پایا انہیں نظام احمدیت کے ساتھ تعاون کرنے اور احمد یہ روح کو بچوں میں پروان چڑھانے میں کوئی بھی تحفظات نہیں ہیں۔ تو یہ بہت خاص خوبی ہے سیرالیون کے لوگوں کی ۔ وہ جس مقصد کیلئے خدمت کرتے ہیں اس کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں اس میں وہ اپنی ذاتی ترجیحات اور مذہب کو خاطر میں نہیں لاتے۔ احمدی واقفین زندگی جو باہر سے یہاں آتے ہیں وہ انتہائی صبر وتحمل اور عزم کے ساتھ خدمات بجالا رہے ہیں اور خواہش مند ہیں کہ وہ ذاتی آرام اور خاندان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خدمات بجالاتے رہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو کہ گزشتہ چوبیس سال سے یہاں خدمات بجالا رہے ہیں۔ ان میں سے بہتوں نے اپنے پیچھے اپنے پیاروں کی جدائی بھی برداشت کی اور اپنے پیاروں کی بیماری یہاں تک کہ ان کی وفات کے موقع پر بھی خاندان والوں سے نہیں مل سکے