خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 2

خطبات طاہر جلدے 2 خطبه جمعه یکم جنوری ۱۹۸۸ء بڑھا بھی دیتا ہے، صرف بڑھنے میں مدد نہیں کرتا ، بڑھنے کی طرف توجہ ہی نہیں دلا تا بلکہ عملاً بہت سے مومن ایسے ہیں جو جمعہ کی برکت سے کئی نئی مسافتیں طے کر لیتے ہیں لیکن یہ جو جمعہ کی برکتیں ہیں یہ عموماً لوگوں کی نظر سے مخفی رہتی ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اس مضمون پر بار ہا مسلمانوں کو توجہ دلائی اس مضمون پر بار ہا روشنی ڈالی اور توجہ دلائی کہ جمعہ میں کتنی برکتیں ہیں ، آپ نے فرمایا کہ جمعہ میں جمعہ سے لے کر عصر کے وقت تک ایسی مبارک ساعتیں ہیں کہ جن میں مومن کی ہر دعا قبول ہو جاتی ہے۔(ابوداؤد کتاب الصلاۃ حدیث نمبر : ۸۸۴) اور اس کے علاوہ جمعہ کے متعلق حضور اکرم اللہ نے مثبت رنگ میں جو کچھ فرمایا ہے ایک طویل مضمون ہے لیکن خلاصہ کلام یہی ہے کہ مومنوں کے لئے جمعہ کا دن بہت ہی اہمیت رکھنے والا دن ہے، غیر معمولی رحمتوں اور برکتوں کا موجب ہے۔پس نئے سال کا آغاز جمعہ سے ہورہا ہو تو اس میں ہمارے لئے دو خوشیاں اکٹھی ہوگئیں لیکن ان خوشیوں کے ساتھ ایک غم کا احساس اور فکر کا احساس بھی شامل ہے اور وہ یہ ہے کہ جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے جماعت احمدیہ کے بھی تمام افراد نہ صرف یہ کہ جمعہ برکتوں سے پوری طرح واقف نہیں بلکہ بہت سے ایسے ہیں جو جمعہ کے فرض کی ادائیگی سے بھی غافل ہیں اور ایسے لوگ دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں ، پاکستان میں نسبتا کم ہوں گے بہت کم بھی کہہ لیں تب بھی ایک اتنی بڑی تعداد ضرور موجود ہے جمعہ نہ پڑھنے والوں کی جو جماعت احمدیہ کے معیار کے لحاظ سے کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں اور غیر ممالک میں تو یہ نسبت بہت زیادہ خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔جہاں جماعتوں کا پھیلاؤ ملک کے پھیلاؤ کی طرح بہت زیادہ وسعت اختیار کر گیا ہے لیکن تعداد تھوڑی ہے وہاں کئی قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔جمعہ پڑھنے کے لئے جماعت کو جو جگہ میسر آتی ہے خواہ وہ مسجد ہو یا کسی گھر کا کمرہ ہو وہ عموماً لوگوں کے گھروں سے دور ہوتی ہے کیونکہ پھیلاؤ کے ساتھ اگر تعداد نہ بڑھے تو پھر لوگوں کے درمیان فاصلے بہت حائل ہو جاتے ہیں۔چنانچہ امریکہ میں خاص طور پر میں نے دیکھا ہے بعض جگہیں جہاں جمعہ پڑھا جاتا ہے وہاں بعض لوگوں کو سوسومیل کا سفر کر کے آنا پڑتا ہے۔ایک جگہ ایسی تھی جہاں ایک ڈاکٹر صاحب صرف اس وجہ سے جمعہ پڑھ سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذاتی جہاز دیا ہوا تھا ورنہ ان کے لئے روزانہ صبح موٹر کے ذریعہ مسجد تک پہنچنا ممکن ہی نہیں تھا۔تو یہ میرا مطلب ہے کہ جب ملک وسیع ہو جائیں جماعت بھی ملک کے ساتھ ہی پھیلے گی جغرافیائی طور پر ملک کے ساتھ ساتھ ہر طرف کہیں نہ کہیں جماعت کے کچھ افراد موجود ہوں گے لیکن اگر تعداد زیادہ نہ ہو تو پھر خلا