خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 685 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 685

خطبات طاہر جلدے 685 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء بتاتے ہیں کہ بڑے بڑے طوفان آئیں گے، بڑے بڑے سیلاب آئیں گے لیکن جب ان سے بچنے کی باتیں فرماتے ہیں تو کشتی نوح کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے اس میں کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ اس قسم کے جہاز بنانا، اس قسم کی کشتیاں بنانا، اس طرح اپنے مکان خشمگیوں میں اونچے ٹیلوں پر تعمیر کرنا بلکہ ان دنیاوی ذرائع میں سے کسی کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔تمام باتیں وہ ہیں جن کا دین اور اخلاق کی درستی سے تعلق ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جوشی نوح کا نچوڑ ہماری تعلیم کے عنوان سے پیش کیا ہے اس کو پڑھ کر آپ دیکھ لیں بات سیلاب کی چلتی ہے کہ اس سیلاب سے تم نے بچنا ہے اور ذرائع یہ بیان کئے جاتے ہیں کہ جھوٹ نہ بولو، بدی نہ کرو، کسی بھائی پر ظلم نہ کرو، تکبر نہ کرو۔غرضیکہ تمام کی تمام تعلیم دینی ہے۔اس کو روحانی بصیرت کہتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام چونکہ خدا شناس تھے اور خدا تعالیٰ کے اشاروں کو اپنے زمانے میں سب سے زیادہ بہتر سمجھتے تھے اس لئے آپ نے سیلاب کے خطرات کے وقت بچنے کے وہ طریق بتائے جو دراصل سیلاب کے پس منظر سے بچنے کے طریق ہیں۔سیلاب کیوں آتے ہیں ایسے جو خدا کے غضب کو ظاہر کرتے ہیں اس طرف آپ کی نظر گئی اور اپنی جماعت کو یہ نصیحت فرمائی کہ ان آفتوں سے بچنے کے لئے اپنے دل کی ، اپنے نفس کی آفتوں سے بچاؤ کےسامان پیدا کرو۔پس یہ کہنا کہ پاکستان میں تباہ کاری ہے یعنی اخلاقی لحاظ سے یا بنگلہ دیش میں ہے یا ہندوستان میں ہے یا بعض دیگر مسلمان ممالک میں بدقسمتی سے ایسی آفتیں ہیں۔یہ کہنا ہمیں کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا جب تک ہم اپنے آپ کو اس کشتی میں سوار نہ پائیں جو ان آفتوں سے بچانے کے لئے اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم فرمائی۔اس لئے مختصر میں ان آفتوں کا ذکر کرتا ہوں جو اس وقت کثرت کے ساتھ بالخصوص پاکستان میں پھیل رہی ہیں اور جماعت کو متوجہ کرتا ہوں کہ ان آفات سے بچنے کا فکر کریں۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو یہ آیات جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے یہ صاف مطلع کر رہی ہے کہ پھر خدا کی پکڑ سے ایسے لوگوں کو کوئی چیز بیچا نہیں سکے گی۔چنانچہ حضرت نوح کے بیٹے کو ایک تمثیل کے طور پر پیش فرمایا گیا۔یہ نہیں مطلب کہ صرف حضرت نوح کے بیٹے تھے جو اس زمانے میں حضرت نوح سے بنیادی اختلاف رکھتے ہوئے قوم میں