خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 684 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 684

خطبات طاہر جلدے 684 طرف خدا تعالیٰ کی انگلی یا اس کی تقدیر کی انگلی اشارہ کرتی ہے۔خطبه جمعه ۴ ارا کتوبر ۱۹۸۸ء مسلمان ممالک میں خصوصیت کے ساتھ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ایک وبا بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وہ ہے تصور یعنی نظریہ اور عمل کا تضاد اور دن بدن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تصور اور سمت میں رواں ہے اور عمل اور سمت میں رواں ہے اور ان دونوں کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔چنانچہ جتنا زیادہ اسلام کو زندہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اسلام کا نام بلند کیا جا رہا ہے اتنا ہی زیادہ مسلمانوں کا عمل تنزل پذیر ہے اور ہر جگہ جرم بڑھتا چلا جارہا ہے اور پھیلتا چلا جا رہا ہے اور واقعہ ایک ایسے سیلاب کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں تمام کی تمام قوم غرق ہوئی ہوئی ہے یا ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ جو حالات ہیں وہ حد سے زیادہ قابل فکر ہیں۔ہر قسم کے جرائم دن بدن ترویج پارہے ہیں۔خلاصہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جان کی وہاں کوئی حرمت نہیں رہی، مال کی کوئی حرمت نہیں رہی ، عزت کی کوئی حرمت نہیں رہی اور حرام اور حلال کی کوئی تمیز نہیں رہی اور وہ ساری بدیاں جو بڑی بڑی طاقتور قوموں کو بھی ہلاکت کے گڑھے تک پہنچا دیا کرتی ہیں وہ اپنا سراٹھا رہی ہیں اور معاشرے کو دن بدن مغلوب کرتی چلی جارہی ہیں۔اس وقت میں محض یہ کہنے کے لئے بھی آج یہاں کھڑا نہیں ہوا کہ پاکستان میں عمومی طور پر کیا ہو رہا ہے بلکہ اس سے بھی پرے میرا مضمون ہے جس کا میں اب ذکر کر نے لگا ہوں۔واقعہ یہ ہے کہ جب موسم ٹھنڈا ہوتو بند کمروں میں بھی اس موسم کا اثر پہنچ جایا کرتا ہے، جب موسم گرم ہو تو بند کمروں میں بھی اس موسم کا اثر پہنچ جایا کرتا ہے، جب سمندروں کے پانی چڑھتے ہیں تو جزائر کو بھی غرق کرنے لگتے ہیں۔اس لئے ایسے موقع پر سب سے زیادہ قابل فکر بات یہ دکھائی دیتی ہے کہ جماعت احمد یہ جو اس سیلاب میں ایک جزیرے کی حیثیت رکھتی ہے اس نے اپنے دفاع کے لئے اور اپنے آپ کو ایسے فتنوں سے بچانے کے لئے کیا کارروائی کی ہے اور کیا باشعور طور پر ہر جگہ جماعت احمد یہ اس سیلاب سے بچنے کے لئے کوئی کوشش کر رہی ہے یا نہیں کر رہی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جس طوفان نوح کی خبر دی گئی تھی اس طوفان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بات دنیاوی سیلابوں سے ہی کرتے ہیں اور