خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 683
خطبات طاہر جلدے 683 خطبه جمعه ۴ ۱ را کتوبر ۱۹۸۸ء ہے بظاہر میں سیلاب کا ذکر کروں گا جس کا تذکرہ آپ نے اخبارات میں پڑھا ہے جو مغربی پاکستان میں اور سابقہ مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش میں پچھلے دنوں آیا اور اس نے بہت بڑی تباہی پھیلائی۔جہاں تک سیلاب کی تباہ کاریوں کا تعلق ہے دونوں جگہ کے موسمیات کے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ایسا سیلاب گزشتہ سو سال یا بعض نے یہاں تک کہا کہ تین سو سال کی تاریخ میں بھی معلوم نہیں اور جو ذ کر بھی سیلابوں کا ملتا ہے اتنا خوفناک سیلاب کبھی اس سے پہلے نہیں آیا لیکن اس وقت میرا موضوع یہ سیلاب نہیں ہے۔چنانچہ میں نے پہلے فقرے میں یہ کہا کہ بظاہر میرے مضمون کا تعلق اس سیلاب سے ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کے سیلاب آتے بھی ہیں اور چلے بھی جاتے ہیں لیکن یہ سیلاب بعض علامتیں ہیں اور بعض امور کی طرف متوجہ کرنے کے لئے آیا کرتے ہیں۔مومن کا کام ہے کہ جس طرف انگلی اشارہ کر رہی ہو اس طرف دیکھے اور محض انگلی پر نظر جما کے نہ بیٹھ جائے۔غالب نے خوب کہا ہے کہ: قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل کھیل لڑکوں کا ہوا ، دیدہ بینا نہ ہوا (دیوان غالب : ۵۹) اس لئے وہ نگاہیں جو سیلاب تک آ کے ٹھہر گئی ہیں وہ بچوں کا کھیل کھیل رہی ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ ان سیلابوں کا خصوصاً ان سیلابوں کا جو محض حادثاتی عوامل کا نتیجہ نہ ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کی غضب کی تقدیر کو ظاہر کرنے والے ہوں ایک پس منظر ہوا کرتا ہے اور اس پس منظر میں آپ کو ایک گناہوں کا سیلاب دکھائی دے گا۔پس خدا کی تقدیر جو کبھی ظلم نہیں کرتی در اصل اس سیلاب کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ایسی ظاہری آفات کے پیدا ہونے کے سامان فرمایا کرتی ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے ظہورمبارک سے پہلے بھی ایک ایسا ہی گناہوں اور معاصی کا طوفان برپا تھا جس کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :۴۲) یہ ایک ایسا معاصی کا سیلاب ہے جس میں تری ہی کو نہیں خشکی کو بھی ڈھانک لیا ہے۔یعنی وہ علاقے جو پانی والے علاقے کہلاتے ہیں صرف ان میں ہی اس ظلم نے غلبہ نہیں کیا بلکہ ہر حصے پر دنیا کے ، ہر خطے پر یہ ظلم غالب آچکا ہے۔پس امر واقعہ یہ ہے کہ مومن کا کام ہے فراست سے خدا تعالیٰ کے اشاروں کو سمجھے اور ان امور کی طرف متوجہ ہو جن کی