خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 682
خطبات طاہر جلدے 682 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء کہ تو ہر قسم کے جوڑے جانوروں میں سے اپنے ساتھ لے لے اور اپنے خاندان کے افراد کو بھی سوائے ان کے جن کے متعلق خدا تعالیٰ کی تقدیر پہلے سے ظاہر فرما دی گئی ہے۔وَمَنْ آمَنَ اور ان کو بھی ساتھ لے لے جو تجھ پر ایمان لائے ہیں۔وَمَا أَمَنَ مَعَةَ إِلَّا قَلِيلٌ لیکن افسوس کہ بہت کم تھے ایسے جو حضرت نوح پر ایمان لائے تھے۔وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَتَهَا وَمُرْسُهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ - چنانچہ جب وہ طوفان آ گیا تو اس نے یعنی حضرت نوح نے اپنے ساتھیوں سے کہا اس میں سوار ہو جاؤ بِسْمِ اللهِ مَجْرَبهَا اللہ ہی کے حکم کے ساتھ ، اللہ ہی نام کے ساتھ اس کا چلنا اور اس کا لنگر انداز ہوا ہے۔اِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ میرا رب بہت بخشش کرنے والا اور بار بار رحم فرمانے والا ہے۔وَهِيَ تَجْرِى بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وہ ان کے درمیان ان کو لے کر چلتی تھی ایسی موجوں کے درمیان جو پہاڑوں کی طرح تھیں یا ایسی موج کے درمیان جو پہاڑ کی طرح تھی ونادی نُوح ابنه اس وقت حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جو ایک گھاٹی میں تھا مغزل ایک طرف۔ارُكَبُ مَّعَنَا انہوں نے کہا اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہو جا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكَفِرِيْنَ اور کافروں میں سے نہ ہو۔قَالَ سَاوِى اِلى جَبَلٍ يَعْصِمُنِی اس نے جواب دیا کہ میں ایک پہاڑ کی طرف پناہ ڈھونڈلوں گا جو مجھے ان پہاڑ جیسی موجوں سے بچالے گا۔لفظاً فرمایا گیا ہے مِنَ الْمَاءِ مجھے پانی سے بچالے گا۔اس کو میں نے پہاڑ جیسی موجوں سے بچالے گا اس لئے کہا ہے کہ اس سے پہلے قرآن کریم فرما چکا ہے کہ ایسی موجوں کے درمیان کشتی چل رہی تھی جو پہاڑ کی طرح تھیں اور یہ مواز نہ فرمایا گیا ہے کہ ایک طرف ایک ایسی کشتی میں کچھ سوار تھے جن کو پہاڑ کی طرح موجوں سے خطرہ لاحق تھا دوسری طرف ایک ایسا شخص تھا جو موجوں کے مقابل پر واقعۂ خشکی کے پہاڑ میں پناہ ڈھونڈ رہا تھا لیکن کیا ہوا؟ جب حضرت نوح نے یہ جواب سنا تو فرمایا لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللهِ خدا کے حکم سے کوئی چیز آج بچا نہیں سکتی وَ حَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ اور ان دونوں کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی اور وہ الْمُغْرَقِینَ یعنی غرق ہونے والوں میں سے ہو گیا۔ان آیات کی تلاوت میں نے آج ایک خاص مقصد سے کی ہے۔اس مقصد کا جہاں تک تعلق