خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 668
خطبات طاہر جلدے 668 خطبه جمعه ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء جوضرور اس کو مل کر رہے گا اور اس کے بعد آج جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء روز دوشنبه ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ اللہ کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه : ۶۵۰ -۶۵۱) پس چونکہ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آج کی تاریخ سے جو ۲۰ فروری ۱۸ء ہے آغا ز فرمایا ہے اس لئے عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ گویا اسی تاریخ کولیکھرام کے متعلق انذاری الہام ہوا تھا حالانکہ اس ساری عبارت میں بات خوب کھول دی گئی ہے کہ انذاری الہام جو عجل جسد له خوار ہے وہ آج سے بہت پہلے ہو چکا تھا۔آج جب وقت کے متعلق توجہ کی گئی کہ کب ہلاک ہو گا تو اس کے جواب میں یہ ہے۔پس یہاں سے اس کا آغاز سمجھنا درست نہیں۔پس اگر جیسا کہ واضح ہے اس کا آغاز اسی الہام سے لیا جائے جس کا ذکر میں نے کیا ہے تو لیکھرام کی ہلاکت گیارہ سال گزرنے کے بعد ہوئی ہے اور بعینہ گیارہ سال پورے ہو چکتے ہیں پھر کچھ عرصے کے بعد یعنی ایک ماہ کے کم و بیش عرصے میں لیکھر ام ہلاک ہوا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دوسرا الہام بعد ۱۱۔انشاء اللہ ( تذکرہ صفحہ: ۳۲۷) اس حصہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے اور چونکہ یہ الہام اس واقعہ کے بعد کا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا ایک اور واقعہ بھی ہونے والا تھا۔چنانچہ اس کا ثبوت کہ اس قسم کا ایک اور واقعہ ہونے والا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت ہی سے ملتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: آج جو ۲ را پریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ ھ ہے صبح کے وقت تھوڑی سے غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں۔اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اس کے چہرے پر سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی