خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 667
خطبات طاہر جلدے 667 خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا اندر من مراد آبادی اور لیکھر ام پشاوری کو اس بات کی دعوت دی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو ان کی قضاء و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں۔“ ظاہر ہے کہ بعض پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو چکی تھیں ورنہ بغیر کسی پیشگوئی کے کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ اعلان عام فرما سکتے تھے۔فرماتے ہیں: سواس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے۔تو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا عجل جسد له خوار له نصب و عذاب اس حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خاص توجہ کے بعد یہ الہام ہوا ہے اور اس سے پہلے کوئی پیشگوئی نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ دعوت دینا کہ اگر چاہو تو میں کچھ پیشگوئی شائع کروں یہ صاف بتارہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارے، کوئی الہام، کوئی القاء اس بات میں ہو چکے تھے کہ ان دونوں کے متعلق انذاری معاملات سے تمہیں آگاہ کیا جائے گا۔اس لئے اشتہار کے ذریعے آگاہ کر دو اور اگر ان کی طرف سے اجازت ہو تو یہ پیشگوئی شائع کی جاسکتی ہے۔اس منشاء الہی کے سوا خدا تعالیٰ کے انبیاء از خود قدم نہیں اٹھایا کرتے۔اس سے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کسی رنگ میں خواہ کھلے طور پر یا اشارے کے رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان دونوں دشمنان اسلام اور دشمنان محمد مصطفی ﷺ کے متعلق یہ اطلاع مل چکی تھی کہ خدا تعالیٰ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ فرما چکا ہے۔چنانچہ جب خصوصیت سے توجہ کی گئی تو الہام ہوا: عجل جسد له خوار له نصب و عذاب یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکر وہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے