خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 662 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 662

خطبات طاہر جلدے 662 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ سرخ پانی کا نشان ہے یعنی خون ملا ہوا پانی جسے ہم نے تحقیق کرلی ہے یہ بالکل قدرتی واقعہ ہے۔وہ اس طرح کہ جہاں دریائے نیل کا منبع ہے ایک طرف تو یوگنڈا میں ایک Victoria Lake کا جو کنارہ یوگنڈا کے اندر واقع ہے وہاں سے دریائے نیل کو نکلتا ہوا بتاتے ہیں۔ایک تو وہ جگہ ہے۔دوسری جگہ ایک اور ہے جسے بعض لوگوں کے خیال میں یوگنڈا میں ایک پہاڑ میں واقع ہے بعض کہتے ہیں کہ ایسے سینیا کے پہاڑ سے تعلق والی جگہ ہے۔اُس پہاڑ کا نام جبل القمر ہے۔اس سے جو دریائے نیل پھوٹتا ہے وہ زیادہ لمبا ہے سمندر سے دوری کے لحاظ سے وہ جگہ بہ نسبت اس Victoria Lake کی جگہ سے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی تھی کہ دریائے نیل جبل القمر سے نکلتا ہے اور اُس زمانے میں اس کا کوئی وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا تھا۔یہ آج کل کی تازہ دریافتیں ہیں۔اس لئے وہاں جب یہ گفتگو ہوئی مجھے انہوں نے منبع دکھایا Victoria کے کنارے پر حکومت کے Protocal افسر ساتھ تھے تو میں نے اُن سے کہا کہ یہ منبع نہیں کوئی اور منبع ہو گا کیونکہ وہ تو جبل القمر کا ذکر ملتا ہے۔وہ واقف تھا اچھی طرح جغرافیہ سے۔اُس نے کہا یہ بات درست ہے۔دو دریائے نیل ہیں ایک نیل کا یہ منبع ہے دوسرے نیل کا منبع جبل القمر ہی ہے اور وہ یوگنڈا کے پہاڑوں میں سے ہی ایک پہاڑ کا نام ہے۔ہوسکتا ہے اُس کا ایک حصہ ایسے سینیا میں بھی ہو۔اُس سے پھر میں نے یہ سوال کیا زیادہ دور فاصلہ کس کا ہے۔اس Victoria Lake کے منبع کا فاصلہ سمندر سے دور ہے یا اُس پہاڑ کا فاصلہ جسے جبل القمر کہہ رہے ہو۔اُس نے کہا وہ بہت زیادہ دور ہے تو جغرافیائی اصول کے مطابق تو پھر جو Source دور ہو وہی اصل Source کہلانی چاہئے۔تو بہر حال اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ جبل القمر کا منبع ہی ہے۔ور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ دریائے نیل کہاں سے نکلتا ہے۔نہ یہ ایسا مضمون تھا جس کے متعلق آپ لب کشائی فرماتے۔چنانچہ یہ جو واقعہ بیان کرنے لگا ہوں اس کا جبل القمر کے منبع سے بھی تعلق ہے Victoria والے منبع سے تعلق نہیں۔چنانچہ مؤرخین نے یہ دریافت کیا کہ دریائے نیل کو اگر ہم دوسرا نیل سمجھیں اور جبل القمر سے نکلنے والا نیل سمجھیں تو اس کے راستے میں ایسی مٹی آتی ہے جو سرخ رنگ کی ہے اور اس کے علاوہ بعض کثرت سے پیدا ہونے والی نباتات ایسی ہیں جو بالکل سرخ ہیں۔اگر دریا طغیانی میں آجائے۔اس علاقے میں زیادہ