خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 663
خطبات طاہر جلدے 663 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء۔بارشیں ہوں تو سارے ارد گرد کے کی مٹی جو سرخ رنگ کی ہے وہ گھل کر اُس دریا میں داخل ہوگی اور پھر وہ نباتات سرخ رنگ کی ہیں تو دیکھنے والا یہ سمجھے گا کہ وہ خون سے بھرا ہوا دریا چل رہا ہے۔چنانچہ یہ تشریح انہوں نے اس طرح کی ، اس کے بعد پھر مینڈک آنے ، پھر طاعون کا ظاہر ہونا پھر اور کئی قسم کی بیماریاں ہیں۔معلوم ہوتا ہے فرعون کی قوم نے بات ماننی نہیں تھی اس لئے وہ ہر تکلیف کے بعد ، ہر عذاب کے بعد کوئی نہ کوئی بہانے تلاش کر لیا کرتے تھے اور یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ یہ یوں ہو گیا ہوگا، یہ یوں ہوگیا ہوگا۔چنانچہ مسلسل پے در پے اُس قوم کو نشان دکھائے گئے تھے۔تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اگر وہ تاریخ کو دہراتا ہے اور یہ سارے واقعات ہی دہرائے جانے والے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے اس قوم سے نسبتا بہتر سلوک ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گرنہ ہوتا نام احمد مجس پر میرا سب مدار ( در این صفحه: ۱۳۱) ( کہ میرا تو سب مدار محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام احمد پر ہے۔اور اس کی برکت سے خدا نے مجھے صلیب کی صعوبتوں سے نجات بخشی ہے۔اس لئے اسی نام کی برکت سے ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور فرعون موسیٰ کے زمانے میں ہونے والے واقعات کو اگر دہراتا ہے جیسا کہ اُس کی تقدیر ہے کہ ضرور وہ دہرائے جائیں گے اور اسی زمانے میں جس میں سے ہم گزر رہے ہیں مقدر یہی تھا کہ اسی زمانے میں دہرائے جائیں گے تو اس طرح دہرائے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت اور برکت سے آپ کی طرف منسوب ہونے والی قوم کو کم سے کم تکلیفیں پہنچیں اور وہ زیادہ سے زیادہ ہدایت پا جائے چونکہ یہ مضمون لمبا ہو گیا ہے اس لئے دوسرا پہلو اس مضمون کا انشاء اللہ آئندہ خطبے میں بیان کروں گا۔