خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 661
خطبات طاہر جلدے 661 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء دعا کرنی چاہئے کہ زمن موسیٰ کے تقدیر الہی کے دشمنوں سے سلوک کے واقعات تو دہرائے جائیں اور اللہ تعالیٰ فضل کرے تو اُن کو بھی ہدایت دے اور یہ واقعات بھی اُس شدت سے نہ دہرائے جائیں لیکن وہ واقعات جو روحانی طور پر خدا تعالیٰ کے موحد بندوں کے لئے تکلیف کا موجب بنا کرتے ہیں وہ واقعات نہ دہرائے جائیں۔فرعون کی تاریخ کے بعض اور واقعات بھی ہیں۔زمنِ موسی اس میں صرف غرقابی کا واقعہ نہیں ہے زمن موسی تو ایک بڑا المبازمانہ تھا۔اُس میں خدا تعالیٰ نے جس طرح اپنی پکڑ کا آغاز کیا ہے جونو (۹) نشانات کا ذکر ملتا ہے اُن پر بھی غور کرنا چاہئے۔اس لئے ہر گز بعید نہیں کہ وہ نشانات بھی اسی طرح دہرائے جائیں کم و بیش شدت کے ساتھ۔مورخین چونکہ اکثر دہر یہ مزاج ہوتے ہیں یا کم سے کم اگر خدا پر ایمان بھی لاتے ہوں تو تاریخی تحقیق میں ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا وہ خدا پر ایمان نہیں لاتے۔ورنہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری تحقیق کو لوگ تخفیف کی نظر سے دیکھتے ہیں، وہ سمجھیں گے یہ کوئی محقق نہیں ہے بلکہ کوئی تو ہم پرست انسان ہے۔اس لئے جب بھی اس واقعہ پر آتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں نشانات کیسے ظاہر ہوئے تھے تو ان کی کوئی عقلی اور سائنسی توجیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں بعض جھٹلا دیتے ہیں اور بعض کہہ دیتے ہیں کہ نہیں یہ واقعات ہوئے ہونگے۔چنانچہ وہ توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ اُس زمانے میں دریائے نیل میں سیلاب آگیا تھا اور اتنا غیر معمولی سیلاب تھا کہ اس سیلاب کے نتیجے میں پھر خود بخود یہ واقعات رونما ہونے ہی تھے یعنی اُن کا تعلق ایک قدرتی واقعہ سے تھا۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام وہ کہتے ہیں کہ ان واقعات سے فائدہ اُٹھا گئے۔حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے تو پہلے خبر دی تھی اور فرعون کو پہلے بتایا تھا کہ اس قسم کے واقعات تم پر گزرنے والے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان ہوں گے۔حضرت موسی کوئی موسمی پیشگوئیاں کرنے والے محکمے سے تعلق تو نہیں رکھتے تھے۔خدا تعالیٰ کے ایک عاجز بندے تھے تعلیم بھی بالکل معمولی سی تھی۔اس کے باوجود یہ جوخبر میں خدا تعالیٰ نے دی ہیں یہ آج پیچھے دیکھ کر تاریخ میں بڑے بڑے محقق پڑھ لیتے ہیں کہ یہ واقعہ یوں ہوا ہوگا۔واقعہ ہونے سے پہلے کون بتا سکتا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہوں گے۔اتنا بڑا سیلاب آئے گا اور اس کے نتیجے میں پھر یہ یہ واقعات رونما ہوں گے۔