خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 657

خطبات طاہر جلدے 657 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء منفتاح کے متعلق ایک بات یہ قابل غور ہے کہ جب منفتاح ڈوب کر مرا ہے تو کیا اُس کے متعلق تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ درج ہے۔ محققین اس بات کو تعجب سے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ بعض مؤرخین نے اس کو جو عیسائیت سے متاثر نہیں ہیں اس کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک فرعون ڈوب کر مرا ہو موسیٰ سے اس کا اس قسم کا مقابلہ ہوا ہو اور مصر کی تاریخ میں یہ واقعہ مذکور ہی نہ ہو۔ اس لئے یہ پہلو ایسا ہے جس کے متعلق مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ خود یہی مؤرخین جو شک کا اظہار کرتے ہیں کھلم کھلا یہ بات لکھ چکے ہیں کہ Egypt کے فراعین چونکہ خدا کے ہم مرتبہ سمجھے جاتے تھے اس لئے اُن کے متعلق کوئی بھی تخفیف کی بات وہ تاریخ میں محفوظ نہیں کیا کرتے تھے بلکہ اُن کی تخفیف یعنی اُن کی ذلت کے واقعات کو الٹا کر ان کی شان و شوکت کے واقعات کے طور پر بیان کیا کرتے تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت خودر رمسیس ثانی کے زمانے میں ملتا ہے۔ یعنی وہ فرعون جس کے زمانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جس کے بیٹے سے پھر بعد میں مقابلہ ہوا ہے۔ رعمسیس ثانی کو اپنے ایک دشمن کے ہاتھوں ایسی زک اٹھانی پڑی کہ اگر وہ غیر معمولی جرات اور ہوشیاری سے کام نہ لیتا تو اُس جنگ میں وہ ہلاک ہو جاتا۔ اُن کے بچھائے ہوئے جال میں وہ پھنس گیا اور بظاہر اُس سے نجات کی کوئی صورت نہیں تھی۔ اس شکست کو مصر کی تاریخ ، اُس زمانے کی تاریخ عظیم الشان فتح کے طور پر پیش کر رہی ہے جبکہ تمام تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ بہت ہی ذلت آمیز شکست تھی اور مصر کی تاریخ کا مطالعہ کر لیں خود یہی محققین لکھتے ہیں کہ کہیں اس واقعہ کو شکست کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ اس فتح کو منانے کے لئے اس نے بڑی بڑی عظیم عمارتیں بنانی شروع کیں اور گویا کہ وہ ذلت کی بجائے وہ اس شکست کو فتح کے طور پر پیش کرتا تھا اور اس فتح کی شان منانے کے لئے اُس نے بہت بڑی بڑی عظیم عمارتیں بنائیں۔ تو کیسے ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعے ایسی ذلت آمیز شکست اور خدا کی تقدیر کا نشانہ بننے کے واقعہ کو مصر کی تاریخ اسی رنگ میں محفوظ کرتی ۔ جہاں تک مؤرخین کا تعلق ہے وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اس فرعون کو بڑی شان و شوکت کے ساتھ دفنایا گیا ہے اور عظیم الشان اُس کا سوگ منایا گیا ہے اور بہت دھوم دھام کے ساتھ اس کے جسم کو محفوظ رکھنے کا جو طریق تھا وہ اختیار کیا گیا۔ پھر جس طرح باقی فراعین کو دفن کرتے وقت شان و شوکت کے ساتھ بہت قیمتی جواہر اور سونے کے برتن