خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 654 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 654

خطبات طاہر جلدے 654 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ مجھے نصیحت فرمائیں کہ میں رمضان کے علاوہ کس مہینے میں روزے رکھوں۔آپ نے فرمایا تم سے پہلے صرف ایک شخص کو میں نے ایسا سوال کرتے ہوئے سنا ہے اور وہ شخص تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کر رہا تھا۔اُس کے جواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم نے رمضان کے سوا کسی مہینے میں روزے رکھتے ہیں یعنی کسی ایک مہینے میں خاص طور پر روزے رکھتے ہیں تو محرم کو اختیار کرو کیونکہ وہ خدا کا مہینہ ہے اس میں ایک ایسا دن آتا ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی طرف توجہ فرمائی اور اُس کی توبہ کو قبول فرمایا اور اس قوم کو نجات بخشی اُس کی توبہ کے نتیجے میں و يتوب فـيــــه عــلــى قـــوم اخرین اور اسی طرح اللہ تعالیٰ آئندہ زمانے میں آخرین میں بھی اسی واقعہ کو دہرائے گا اور آخرین میں بھی بعض لوگوں کی تو بہ کو قبول فرماتے ہوئے انہیں فرعون سے نجات بخشے گا اور یہ اسی مہینے میں ہونے والا واقعہ ہے اس کے بعد اُس دن کی تعین فرمائی کہ ایسا کس دن میں ہوا تھا۔اور آئندہ بھی اسی دن کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔محرم کا مہینہ تو واضح فرما دیا۔عن انس قال سئل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الايام وسئل عن يوم الاربعاء قال يوم نحس قالوا وكيف ذاک یا رسول الله قال اغرق فيه الله فرعون وقومه ـ (الدر المخو رسیوطی جلد ۶ صفحه : ۱۳۵) کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنوں اور بالخصوص بدھ کے دن کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا منحوس دن۔لوگوں نے پوچھا وہ کیسے تو فرمایا اس روز اللہ نے فرعون اور اُس کی قوم کو غرق کیا تھا تو محرم اور بدھ کا دن یہ وہ نشان دہی ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے فرما چکے ہیں اور خود آپ کے ارشاد کے مطابق قوم موسیٰ کے ساتھ گزرنے والے واقعات میں سے خصوصاً فرعون والا واقعہ دہرایا جائے گا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق آئندہ قوم آخرین میں یہ واقعہ دہرایا جانے والا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ قوم آخرین کون سی ہے۔اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید وضاحت فرمائی۔ترندی ابواب الصوم باب ما قیل یوم العاشورة ( حدیث نمبر: ۶۷۲) اس