خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 655 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 655

خطبات طاہر جلدے 655 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء میں درج ہے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں یہ وہ دن ہیں جن میں حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو فرعون پر غلبہ ملا اور سمندر سے نجات حاصل ہوئی اور اس طرح کا ایک اور واقعہ میری اُمت میں بھی آئندہ زمانے میں ہونے والا ہے۔تو قوم آخرین سے مراد کوئی دوسری قوم نہیں بلکہ امت محمدیہ ہی ہے۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔اگر یہ وضاحت نہ بھی ہوتی تب بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اور کس کی اُمت کے حق میں خدا نشان ظاہر فرما سکتا ہے۔اس لئے وہ تو بہر حال قطعی بات ہے لیکن مزید تقویت ایمان کی خاطر میں یہ حدیث بھی آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آج سے تقریباً ۶ ۸ سال پہلے یہ خبر دی کہ یہ واقعہ آپ کے زمانے میں ہونے والا ہے۔آپ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات ہیں جن کی یہ پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔چنانچہ الہاما آپ سے یہ فرمایا گیا کیانی علیک زمن کمثل زمن موسی ( تذکرۃ صفحہ ۳۶۲) کہ تجھ پر ایسا زمانہ آنے والا ہے جیسا موسیٰ کے اوپر ایک زمانہ آیا تھا۔۲۱ / دسمبر ۱۹۰۲ء۔الحکم ۱۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء میں یہ شائع ہوا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ۱۸ مارچ ۱۹۰۷ء کو وصال سے قریباً ایک سال پہلے یہ الہام ہوا ایک موسیٰ ہے میں اُس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اُس کو عزت دوں گا۔‘ ( تذکرہ صفحہ ۵۹۶) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا انه کریم تمشی امامک و عادی من عادی۔فرمایا: کل جو الہام ہوا تھا یاتی علیک زمن کمثل زمن موسیٰ یہ اُسی الہام سے آگے معلوم ہوتا ہے جہاں ایک الہام کا قافیہ دوسرے الہام سے ملتا ہے خواہ وہ الہام ایک دوسرے سے دس دن کے فاصلہ سے ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں کا تعلق آپس میں ضرور ہے۔یہاں بھی موسیٰ اور عاری کا قافیہ ملتا ہے اور پھر توریت میں اس قسم کا مضمون ہے کہ خدا نے موسیٰ کو کہا کہ تو چل اور میں تیرے آگے چلتا ہوں“۔( تذکرہ صفحہ: ۳۶۶-۳۶۷) ان امور سے یہ ثابت ہوا کہ فرعون کے ساتھ ہونے والے واقعات اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ فرعون نے جو مظالم کئے اُن کے جواب میں خدا تعالیٰ کی ایک ایسی تقدیر ظاہر ہوئی تھی جس نے دوبارہ ظاہر ہونا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں