خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 652 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 652

خطبات طاہر جلدے 652 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء مقابر سب معلوم تھے اُن میں وہ خالی پڑے ہوئے تھے چیزوں سے جو چیزیں لوٹی جا چکی تھیں لوٹی گئیں پہلے۔جو بقیہ سامان حکومتوں کے ہاتھ آیا وہ پہلے ہی عجائب گھروں کی زینت بن چکا تھا۔اس لئے اُس کو بہت تعجب ہوا اور اُس نے تحقیق شروع کروائی تو پتا لگا کہ عبدالرسول ایک خاندان ہے جو یہ کاروبار کر رہا ہے۔چنانچہ کچھ دباؤ کے نتیجے میں بار بار کی پرسش کے نتیجے میں کچھ عرب دستور کے مطابق اُن میں سے ایک آدمی کو پکڑ کر اُس کے تلوں پر انہوں نے سانٹے لگائے تو آخر وہ بول پڑا۔اُس نے بتایا آؤ میں تمہیں لے کر جاتا ہوں۔اس مقبرے سے ایک میل جو بادشاہوں کا مقبرہ کہلاتا ہے یا مقابر کہلاتے ہیں اُس جگہ سے قریباً ایک میل دور ایک اور مقبرہ بھی ہے جس کا کسی کو کچھ پتا نہیں تھا اور اُس میں یہ ساری چیزیں محفوظ پڑی ہیں اور وہاں پرانے بادشاہوں کی لاشیں بھی ہیں اُس کو ہم نے اس لئے ہاتھ نہیں لگایا کہ ہم پکڑے جاتے۔چنانچہ جب ایک مہم وہاں گئی اور محقق وہاں اُترے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے بہت سے فراعین مصر کی اکٹھی لاشیں وہاں موجود تھیں اور چونکہ وہ محقق پرانی زبان پڑھ سکتا تھا اُس نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کی کہ یہ قطعی طور پر پرانے فراعین کی لاشیں ہیں۔اُس کے کچھ دیر کے بعد ایک اور مقبرہ بھی وہیں قریب ہی دریافت ہوا جہاں ۱۳ فراعین کی لاشیں ملیں۔اُن لاشوں میں منفتاح کی لاش بھی تھی اور اُس کے دادا کی لاش بھی تھی اور اُس کے والد کی بھی اور کئی اہم فرائین کی لاشیں وہاں موجود تھیں۔چنانچہ متفقین بڑی حیرت سے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ واقعہ جب معلوم ہوا تو تمام محققین دم بخودرہ گئے۔اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ لاشیں جو تین ہزار سال تک گم رہیں وہ اچانک دریافت ہوں گی اور بالکل صحیح حالت میں جس طرح ممی کی گئی تھیں اُسی طرح پڑی ہوئی وہاں ملیں گی۔چنانچہ اس پر مزید تحقیقات ہوتی رہی اور پتالگا کہ مختلف وقتوں میں اُس زمانے میں بھی چونکہ چوریاں شروع ہو گئی تھیں بہت مال و دولت ساتھ دفنا دیا جاتا تھا۔اس لئے اُس زمانے میں بھی چور اُچکے مال و دولت کی لالچ میں بار بار حملے کر کے وہ قیمتی چیزیں چرا لیا کرتے تھے۔اس لئے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے تقریباً دو سو سال یا تین سوسال کے درمیان کے عرصہ میں مصر کے پادریوں نے یہ فیصلہ کیا یا مہنتوں اور پنڈتوں نے جو بھی آپ اُن کو نام دیں) کہ ان بادشاہوں کی حفاظت کی خاطر انہیں کسی مخفی جگہ پر منتقل کر دیا جائے۔چنانچہ یہ دوسرا ساز و سامان سب وہیں رہنے دیا گیا اور بادشاہوں کی