خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 60
خطبات طاہر جلدے 60 60 خطبہ جمعہ ۲۲ جنوری ۱۹۸۸ء کرنے کے قابل پھلوں میں بدل دیں۔پھر ایسے احمدی ہیں جن کے ذہن اتنے ذرخیز ہیں کہ ایک ملک کی یعنی زراعت سے تعلق رکھنے میں ایک ملک کی آب وہوا کا جائزہ لے کر وہ سوچتے ہیں کہ وہ کو نسے درخت ہیں یا کونسی فصلیں ہیں جو آج کل یہاں نہیں لیکن جغرافیہ کے اعتبار سے اور علم زراعت کے اعتبار سے یہاں بہت اچھی چل سکتی ہیں اور اگر یہاں داخل کر دی جائیں تو اس ملک کے لئے بہت بڑی آمد پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں تو ایسے ذرخیز دماغ والے زراعت کے امور سے واقف لوگ بھی اپنے نام پیش کر سکتے ہیں۔پس اس قسم کے بہت سے امور ہیں جو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ جو اپنے رنگ میں سوچنا شروع کر دیں گے اور جس کو خدا نے جس حد تک وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے وہ اسی حد تک وقف کر دے گا خواہ عارضی دورے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرے یا نسبتا لمبی خدمتوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کرے۔اسی طرح جو پہلی تحریکیں چل رہی ہیں اس میں بھی ہمیں شدید ضرورت ہے کہ کثرت سے نئے نام آئیں۔اساتذہ ہر معیار اور ہر سطح کے اساتذہ کی ضرورت ہے ڈاکٹرز کی ہر معیار اور ہر سطح کے ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔خدمت کے مطالبے بڑھتے چلے جارہے ہیں اس لئے ان سارے امور میں نصرت جہانِ نو کا میں اعلان کرتا ہوں ایک نئے جذبے اور ایک نئے ولولے کے ساتھ سابقہ نصرت جہاں کے کام کو مزید آگے بڑھانے کے لئے ایک نیا شعبہ نصرت جہانِ نوان سارے امور میں غور کرے گا اور ان سارے امورکومتر تب کرے گا اور انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کو نئے میدانوں میں افریقہ کی خدمت کرنے کی توفیق بخشے گا۔یہ عجیب اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے اور گیمبیا کی یہ خاص سعادت اور خوش نصیبی ہے کہ نصرت جہانِ اول کی تحریک بھی اسی ملک یعنی آپ کے ملک سے شروع ہوئی تھی اور حضرت خلیفتہ انسیح الثالث کو خدا نے یہ توفیق بخشی تھی کہ وہ گیمبیا کی سرزمین سے نصرت جہان کی اسکیم کا اعلان کریں۔پس اس کے دوسرے حصے کے اعلان کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی سرزمین کو یہ اعزاز بخشا ہے اللہ یہ اعزاز آپ کو مبارک کرے اور اس تحریک کو بھی پہلی تحریک کی طرح ہمیشہ اپنے فضلوں اور رحمت کے سایہ تلے بڑھاتا رہے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: (بقیہ ) خطبہ ثانیہ سے پہلے میں دو جنازوں کا اعلان کرتا ہوں جن کی نماز جنازہ غائب ابھی