خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 61

خطبات طاہر جلدے 61 خطبه جمعه ۲۲ جنوری ۱۹۸۸ء نماز جمعہ اور نماز عصر کے جمع کرنے کے بعد پڑھائی جائے گی۔پہلی نماز جنازہ غائب ایسے مرحوم کی پڑھائی جائے گی جنہوں نے نہایت متشد د مخالف خاندانوں سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔خود یہ جماعت اسلامی کے بڑے پر زور خدمت گار تھے اور احمدیت کی مخالفت میں پیش پیش ہوا کرتے تھے۔لیکن جب انہوں نے احمدیت کی مخالفت کے دوران احمد یہ لٹریچر پڑھا اور احمدیوں سے مقابلے کیلئے تیاریاں کیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت عطا فر مادی اور ان کا دل مطمئن ہو گیا کہ یہ سچائی ہے چونکہ دل سچا تھا اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ جو بھی قیمت دنیا کی دینی پڑے میں سچائی کے ساتھ ہوں گا۔ان کا نام ارشاد احمد شکیب تھا اور انہوں نے احمدیت جیکب آباد میں قبول کی۔ان کا سارا خاندان انکا مخالف ہوا، ان کے دوست سارے مخالف ہو گئے ، ان کے اوپر ہر طرح سے مالی اور دوسرے دباؤ ڈالے گئے لیکن احمدیت میں کمزور پڑنے کی بجائے خدمت میں اتنا آگے بڑھے کہ اللہ کے فضل سے جماعت کی ذیلی تنظیموں میں بھی اور جماعت کی مرکزی تنظیم میں بھی یہ کئی عہدوں پر فائز رہے۔چنانچہ ایک لمبے عرصے سے یہ جیکب آباد جماعت احمدیہ کے صدر تھے۔کچھ عرصہ پہلے ایک حادثے میں شہید ہوئے۔ان کے بیوی بچوں میں سے سوائے ایک بیٹے کے احمدیت قبول نہیں کی اور جس بیٹے نے احمدیت قبول کی اس کو انہوں نے فوراً وقف کر دیا۔چنانچہ اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جامعہ احمدیہ میں ایک واقف زندگی کی حیثیت سے دینی تعلیم پارہا ہے۔یہ تفصیل میں نے اس لئے بیان کی ہے کہ اس بچے یعنی عامر ارشاد قریشی طالب علم جامعہ احمدیہ کے لئے خصوصیت سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو ان کی نسلیں پھیلانے والا بنائے اور بہت برکت دے۔دنیاوی لحاظ سے بھی یہ اپنے باپ کے سچے جانشین بنیں اور دینی لحاظ سے بھی کثرت سے ان کے روحانی وارث پیدا کرنے والے بنیں۔دوسرا جنازہ کراچی کے ایک مخلص نوجوان نعیم اللہ خان صاحب کے والد کا ہے ان کی وفات گزشتہ سال ماہ اگست میں ہوئی تھی لیکن کسی وجہ سے ان کا خط میری نظر سے نہیں گزرا اور میں ان کی نماز جنازہ غائب نہیں پڑھا سکا پھر دیر ہو گئی لیکن بار بار ان کی طرف سے اصرار کے خط اور بعض دوسرے احمدیوں کی طرف سے ملے کہ ہمارے والد مرحوم کی نماز جنازہ غائب پڑھا دیں۔اس لئے ان کی نماز جنازہ غائب بھی آج اس پہلے جنازہ کے ساتھ ہوگی۔