خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 641 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 641

خطبات طاہر جلدے 641 خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۸۸ء اور اُن کے لئے اُس کو پھلانگنا کوئی مشکل کام نہیں ہوا کرتا۔اس لئے ایسی باتوں کی تو ہر جگہ توقع ہوتی ہے اور ماریشس اس لحاظ سے کوئی استثناء نہیں تھا۔صرف افسوس یہ ہوتا تھا کہ وہ مذاہب جن کو اسلام نے تہذیب سکھائی ، جن کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں نے زندگی کے اعلیٰ آداب کی را ہیں دکھائی تھیں، وہ مذاہب دوسرے مسلمانوں کے لئے نمونہ بنے ہوئے تھے لیکن اُن کے نمونے سے بھی استفادہ کرنے کی ان کو توفیق نہیں مل رہی۔اس کے باوجود یہ نا انصافی ہوگی اگر یہ کہا جائے کہ یہاں کے علماء اپنے طرز عمل اور اپنی حرکتوں میں پاکستان یا ہندوستان کے علماء کے خاص طبقے کے برابر شمار کئے جاسکتے ہیں۔یہاں کے علماء تو اُن کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچتے۔یہاں کے احمدیوں نے ان کے طرز عمل سے دل برداشتہ ہو کر ایسی باتیں کیں کہ ہم بہت شرمندہ ہیں ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہمیں ہمارے ملک کے علماء نے ایسی باتیں کیں۔جب یہ باتیں مجھے پہنچیں تو میں نے ہنس کر کہاں کہ انہوں نے ابھی علماء دیکھے ہی نہیں۔اگر یہ پاکستان میں پیدا ہوئے ہوتے یا پارٹیشن سے پہلے قادیان کے اردگرد جالندھر، ہوشیار پور، بٹالہ یا امرتسر اور پھر دہلی کے علماء سے ان کو واسطہ پڑتا تو اپنے علماء کوفرشتہ سمجھتے۔کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔میں تو ان کو بہت نرم خو سمجھ رہا تھا اُن علماء کے مقابل پر اظہار تو کرنا ہی ہے۔ان کے متعلق جو بداخلاقی کا احساس ہوتا ہے یہاں کے باقی لوگوں کے مقابل دیکھ کر احساس ہوتا ہے۔عیسائی پادری بھی تو ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں ، جانتے ہیں کہ اُن کو سب سے زیادہ خطرہ احمدیت سے ہے۔احمدیت ہی وہ ہے جس نے صلیب تو ڑ دی ہے اور وہ اس بات سے بے خبر نہیں کہ افریقہ میں بھی یہ احمدیت ہی تھی جس نے اسلام کی حمایت میں اُٹھ کر عیسائیت کی آگے بڑھتی ہوئی رو کا رُخ پلٹ دیا اور بجائے اس کے کہ مسلمان عیسائی ہونے لگیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کثرت کے ساتھ افریقہ کے ممالک میں مسلمانوں نے عیسائیوں کو احمدی کر دیا۔وہ جانتے ہیں کہ اصل مد مقابل کون ہیں۔اس کے باوجود اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔تمام ایسے مواقع پر جہاں اُن کو دعوتیں دی گئیں اُن کے بشپ اور دیگر ، بڑے بڑے لوگ بڑے اعلیٰ اخلاق کے ساتھ حاضر ہوئے اور بڑی عمدگی کے ساتھ خوش آمدید بھی کہتے رہے اسی طرح ہندوؤں کا حال ہے اُن کے مذہبی لیڈر ہماری مجالس میں تشریف لائے اور ایسے موضوع پر گفتگو کے دوران جہاں ہندوازم پر اسلام کی برتری ثابت کی جارہی تھی انہوں نے ہرگز کسی بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا۔اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور بعض جگہ تعریف بھی کی