خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 639 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 639

خطبات طاہر جلدے 639 خطبه جمعه ۲۳ ر ستمبر ۱۹۸۸ء جائے ، احمدیت کی آب ان پر آجائے تو یہ قوم دنیا کی عظیم الشان قوم کے طور پر منصہ عالم پر ابھر سکتی ہے دیگر اہم تقاریر میں جو سب سے نمایاں تقریرتھی وہ یو نیورسٹی میں ارتقاء اور اسلام کے مضمون پر میر امختصر خطاب تھا۔وزیر قانون بھی وہاں تشریف لائے ہوئے تھے اور یو نیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب نے شروع میں بھی مجھے خوش آمدید کہا بہت ہی اچھے لفظوں میں اور تقریب کے آخر پر بھی بہت ہی عمدہ خیالات کا اظہار کیا۔وہاں بھی مجھے یہی نظر آیا کہ یونیورسٹی کا اخلاقی معیار بھی غیر معمولی طور پر نمایاں ہے۔بہت اعلیٰ حسن سلوک کا اظہار کیا طلباء نے بھی اور اساتذہ نے بھی جس رنگ میں یہ لیکچر سنا باوجود اس کے کہ اُن میں بھی بعض کے خیالات سے مخالفانہ باتیں بھی ہوں گی۔اُن میں ہندو بھی تھے ، اُن میں عیسائی بھی تھے ، اسلام کی برتری اس طرح نمایاں طور پر ظاہر ہوتے دیکھ کر ہوسکتا ہے اُن کے مذہبی جذبات پر تھوڑی سی آنچ بھی آئی ہو لیکن اس کے باوجود بڑے حوصلے کے ساتھ انہوں نے گفتگو کو سنا اور بہت ہی عمدہ رنگ میں تقریر کے آخر پر بڑی خوشی کا اظہار کیا کسی برے جذبے کا اظہار نہیں کیا۔بالعموم جو تاثر یہاں کی سوسائٹی کے متعلق میں نے قائم کیا اُسے یونیورسٹی جا کر اور بھی زیادہ تقویت ملی۔عزت مآب وزیر تعلیم اور وائس چانسلر صاحب سے مل کر مجھے خصوصیت کے ساتھ بہت خوشی ہوئی۔یہ ظاہر بات ہے کہ تعلیمی اداروں سے یونیورسٹی کے ساتھ جن لوگوں کا تعلق ہو اور پھر ایک وزیر تعلیم اور ایک وائس چانسلر تعلیم یافتہ تو وہ ہوں گے اور اونچے درجے کے تعلیم یافتہ ہوں گے اور تمام دنیا میں یو نیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سبھی اساتذہ بھی اور اُن کے بڑے افسران بھی سبھی اعلیٰ درجے کے تعلیم یافتہ ہی ہوا کرتے ہیں لیکن جو خصوصیت سے میں نے اُن کی تعلیم میں بات محسوس کی کہ یہ محض دنیا وی علم سے آراستہ نہیں تھے بلکہ علم جو شائستگی عطا کرتا ہے، طبیعت میں جوادب پیدا کرتا ہے وہ بھی ان دونوں کی طبیعتوں میں بدرجہ اتم پایا تعلیم کا ایک تصور تو یہ ہے کہ دنیا کے علوم پڑھا دیئے جائیں اور ایک تصور یہ ہے کہ نہایت اعلیٰ درجہ کی شائستگی پیدا کی جائے اور یہ جو دوسرا حصہ ہے بعض دفعہ بے تعلیم لوگوں میں بھی مل جاتا ہے اور یہ خدا کے فضل سے ایسا ہوسکتا ہے۔بظاہر ان پڑھ انسان بھی جب خدا تعالیٰ کے جب فضل جذب کرتا ہے تو اُس کے اخلاق اس کے اطوار اُس کا ملنا جلنا نہایت اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ لوگوں سے بڑھ کر شائستہ ہوسکتا ہے۔یہ الگ الگ دو چیزیں ہیں اس کو چونکہ میں نے غور سے ان دونوں کو قریب