خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 638
خطبات طاہر جلدے 638 خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۸۸ء والوں کا اور جس طرح میری نصیحتوں پر فور البیک کہتے ہوئے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں اُس پر میں اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسی پاکیزہ اور پیاری اور نیک باتوں پر عمل کرنے والی جماعت عطا فرمائی ہے۔اس کے علاوہ اس ملک کا شکریہ بھی واجب ہے جس میں صرف جماعت احمد یہ ہی نہیں اس ملک کی حکومت نے بھی اور اس ملک کے عیسائیوں نے بھی اور ہندووں نے بھی اور بعض مسلمانوں نے بھی بہت ہی عمدہ حسن سلوک کیا ، بہت ہی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا اور جہاں تک حکومت کا اور حکومت کے سربراہ وزیر اعظم کا تعلق ہے تو عام روز مرہ کے جو اخلاقی تقاضے ہیں اُن سے بڑھ کر معاملہ کیا اور سرسری ملاقات پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ ہمارے کھانے پر بھی تشریف لائے اور کئی گھنٹے مصروفیت کے باوجود وہاں بہت ہی بے تکلف ماحول میں وہاں بیٹھے اور مختلف مضامین پر بے تکلفی سے باتیں کیں اور اُس کے بعد تقریب میں جس قسم کے خیالات کا اظہار کیا اس سے معلوم ہوتا ہے اُن میں بہت اعلیٰ انسانی قدریں ہیں۔حکومت کے پروٹو کال کے تقاضوں کو بالکل بالائے طاق رکھتے ہوئے قطع نظر اس کے کہ یہاں کے باشندے یعنی وہ علماء جو جماعت کی دشمنی پر وقف ہیں وہ کیا کہیں گے۔انہوں نے اس بے تکلفی اور اس بہادری سے جماعت کے متعلق اچھے خیالات کا اظہار کیا اور مجھے خوش آمدید کہی کہ میں حیرت سے اُن کا منہ دیکھتارہ گیا کہ یہ سیاسی لیڈر ہیں یا انسانی قدروں کے محافظ ہیں۔ایک عام سیاسی لیڈر سے اس قسم کی جرات مندی کی توقع نہیں کی جاتی۔اسی طرح اس سفر کے دوران اور یہاں قیام کے دوران مختلف وزرا سے بھی ملاقات ہوئی مختلف دانشوروں سے ملاقات ہوئی مختلف عدلیہ کے ماہرین اور ججوں سے ملاقات ہوئی اور وہ سب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے تھے لیکن اُن سب میں ایک مشترک قدر میں نے دیکھی جس نے میرے دل پر ماریشس کے بسنے والوں کے متعلق بہت ہی اچھا اثر ڈالا۔سب نہایت ہی با اخلاق تھے اور منکسر مزاج تھے۔کسی میں کوئی تکبر کی رگ نظر نہیں آئی اور سب ہی بہت ذہین تھے اور اعلی تعلیم یافتہ روشن دماغ تھے۔یہی میرا تاثر عمومی طور پر جماعت کے افراد کے متعلق بھی ہے اور باہر کے افراد کے متعلق بھی جسے میں نے خود دیکھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں خدا تعالیٰ نے بہت سی صلاحیتیں بخشی ہوئی ہیں۔بہت سی اعلیٰ قدروں سے اس ملک کو نوازا ہے اور اگر ان کو احمدیت کی جلا ہل