خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 637
خطبات طاہر جلدے 637 خطبه جمعه ۲۳ رستمبر ۱۹۸۸ء دوره ماریشس اور جماعت ماریشس کو نصائح ( خطبه جمعه فرموده ۲۳ / ستمبر ۱۹۸۸ء بمقام روز بل، ماریشس ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مشرقی افریقہ کے دورے میں میرا پروگرام یہ تھا کہ یہ چار ممالک جن کا دورہ سفر کا حصہ تھا ان میں ہر ملک میں ایک جمعہ پڑھوں گا۔چنانچہ گزشتہ جمعہ تک یہ حساب پورا اتر تارہا اور خیال یہ تھا کہ جمعرات کو یہاں سے روانگی ہوگی مگر انسان کے ارادے خدا کی تقدیر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ ماریشس میں ایک کی بجائے دو جمعے پڑھے جائیں۔اور باتوں کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ ماریشس میں احمدیت کی تاریخ کو جو اہمیت حاصل ہے اور یہاں کی جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جس طرح من جملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام پر لبیک کہا ہے اس پہلو سے ان چاروں ممالک میں جن کا میں نے دورہ کیا ہے ماریشس کو ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔شاید خدا تعالیٰ کی تقدیر یہی ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ اس ملک میں ایک نہیں بلکہ دو جمعے ہونے چاہئیں اور آئندہ کے لئے بھی میں سمجھتا ہوں میرا یہاں ٹھہر نا کئی پہلوؤں سے مفید ثابت ہوا ہے۔اگر میں جمعرات کا پروگرام بھی رکھتا اور کل یہاں سے جا چکا ہوتا تو بہت سے ضروری مسائل ایسے تھے جن پر توجہ دینا ممکن نہ ہوتا۔میرا خیال تھا کہ اتنی دیر مجلس عاملہ کی میٹنگ میں بیٹھ کر مشورے کافی ہوں گے، دوسرے بہت زیادہ اور مسائل کو قریب سے دیکھنے سے جو نئے مسائل ابھرتے ہوئے سامنے آئے اُن کا تقاضا یہی تھا کہ زیادہ وقت دیا جاتا اور تسلی سے بیٹھ کر باہم مشورے کئے جاتے۔ماریشس کی جماعت نے جس طرح پر محبت اور اخلاص سے خیال رکھا ہے ہمارے قافلے