خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 59

خطبات طاہر جلدے 59 خطبہ جمعہ ۲۲ جنوری ۱۹۸۸ء صرف کیا ہے اور وہ ان مسائل سے خوب اچھی طرح واقف ہیں۔اسی طرح ایسے احمدی موجود ہیں دنیا میں جن کی عمر کا بیشتر حصہ جانوروں کے چمڑے کو محفوظ کرنے میں خرچ ہوا۔ایسے کارخانوں سے وہ تعلق رکھتے ہیں یا خود ان کی اپنی تجارتیں اس نوع کی ہیں کہ وہ جانوروں کے چمڑے اکٹھے کر کے خشک کر کے محفوظ کرتے ہیں یا اس سے آگے بڑھ کر ان کو جدید طریق کے اوپر اس قابل بناتے ہیں کہ اس سے آگے چمڑے کا جدید سامان بہترین بنایا جا سکے۔اسی طرح ایسے احمدی موجود ہیں جن کا جوتے بنانے کی صنعت سے تعلق ہے خواہ وہ چمڑے کے جوتے ہوں خواہ وہ پلاسٹک کے جوتے ہوں اب یہ سب لوگ میرے مخاطب ہیں اس لحاظ سے نہیں کہ یہاں آکر سر مایہ کاری کریں اور اس گزری ہوئی قوموں کے نقش قدم پر چل جائیں جنہوں نے سرمایہ کاری کی اور ملک کولوٹ کر باہر چلے گئے بلکہ اس لحاظ سے یہ مخاطب ہیں کہ اپنے فن کو اپنے علم کو افریقہ کی خدمت کے لئے پیش کریں اپنے اپنے نام پیش کریں اور جماعت کے نظام کے تابع یہاں کے دورے کریں اور یہاں کے لوگوں کو اس قابل بنانے کے لئے منصوبے بنا کر پیش کریں کہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ان کے علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ملک کی دولت کو فروغ بھی دیں اور اس سے خود فائدہ اٹھائیں۔اسی طرح ایسے احمدی دوست ہیں جو مچھلی کوٹن میں Preserve کرنے کے کارخانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کا اپنا کاروبار یہی ہے ، اسی طرح جوس بنانے کی فیکٹریوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین ہیں یا مالکان ہیں یہ سارے میرے مخاطب ہیں اور میں نام بنام اس لئے ان پیشوں کا ذکر کر رہا ہوں تا کہ غفلت سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جن کے نام لئے گئے وہ تو مخاطب تھے اور ہم باہر رہ گئے ہیں۔اسی طرح زراعت سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں خواہ انہوں نے کالجوں سے علم حاصل کیا ہو یا نہ کیا ہو اپنے لمبے تجربہ کی بناء پر وہ بہت کامیاب زراعت کرنے والے لوگ ہیں اور بعض فصلوں کی مہارت رکھتے ہیں۔بعض لوگ مونگ پھلی کے فن کو خوب جانتے ہیں کہ کس طرح کاشت کی جاتی ہے بعض لوگ آلو کے ماہر ہیں، اسی طرح دیگر سبزیات کے ماہرین بھی موجود ہیں، اسی طرح باغات لگانے کے ماہر موجود ہیں ، ایسے ماہر موجود ہیں جو بطور مالی لمبا عرصہ کام کرتے رہے لیکن ان کے ہاتھ میں خدا نے یہ فن بخشا کہ وہ آم یا مالٹے کو یا اسی قسم کے اور پودوں کو پیوند کر کے ان درختوں کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ کر دیں اور وہ پھل جو ضائع ہورہے ہیں ان کو نہایت قیمتی Export